شہدائے احمدیت — Page 181
خطبات طاہر بابت شہدا 174 مکرم بشیر احمد رشید احمد صاحب آف سری لنکا خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء بشیر احمد رشید احمد صاحب آف سری لنکا تاریخ شہادت ۲۷/ جون ۱۹۷۹ء۔مکرم بشیر احمد رشید احمد صاحب ، مکرم بے رشید احمد صاحب آف نیگومبوسری لنکا کے بیٹے تھے۔آپ کے دادا محمد جمال الدین صاحب نے احمدیت قبول کی اور نیگومبو میں جماعت کے ابتدائی احمدیوں میں شمار ہوئے۔۱۹۷۸ء میں جماعت احمد یہ سری لنکا کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ملاؤں نے جماعت کی مخالفت بڑے زور شور سے شروع کر دی اور مولویوں کی زیر نگرانی احمدی دوستوں کے گھروں پر حملے شروع ہوئے اور بہت سے گھر جلائے گئے۔احمدیہ مسجد کو بھی آگ لگائی گئی۔یہ صورتحال تقریباً ایک سال تک جاری رہی۔جون ۱۹۷۹ء میں بشیر احمد صاحب دو خدام کے ہمراہ نماز عشاء کے بعد مسجد سے گھر آرہے تھے کہ چارغنڈوں نے چاقوؤں اور خنجروں سے آپ پر حملہ کر دیا۔آپ کے جسم پر چاقوؤں کے اٹھارہ زخم آئے جن کے نتیجہ میں بشیر احمد صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔مرحوم کی شہادت کے وقت بائیس سال عمر تھی اور غیر شادی شدہ تھے۔آپ کی والدہ ابھی زندہ ہیں۔ان حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ کیا گیا لیکن حکومت میں اُن کے اثر و رسوخ کی وجہ سے فیصلہ اُن کے حق میں ہو اور اُن کو بری کر دیا گیا لیکن خد کی عدالت سے یہ لوگ بیچ نہ سکے۔ان میں سے ایک شخص چلتی گاڑی کی زد میں آگیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے اڑ گئے۔دوسرے کو اپنے ہی ساتھیوں نے چاقوؤں سے حملہ کر کے ہلاک کر دیا اور اسے بھی ریلوے لائن پر پھینک دیا۔باقی دونوں دماغی توازن کھو بیٹھے اور لمبے عرصہ تک پاگل خانے اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔یہ دونوں اگر چہ ابھی تک زندہ ہیں مگر انتہائی تکلیف دو حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔مردوں میں شمار ہیں نہ زندوں میں۔محترم منشی علم دین صاحبہ کوٹلی آزادکشمیر حضرت منشی علم دین صاحبہ کوٹلی آزاد کشمیر۔تاریخ شہادت ۱۳ راگست ۱۹۷۹ء۔حضرت منشی صاحب نے ۱۹۳۴ء میں کافی جستجو اور مطالعہ کے بعد شرح صدر کے بعد احمدیت قبول کی۔قبول احمدیت سے قبل جلسہ سالانہ پر قادیان بھی جاتے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح