شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 297

شہدائے احمدیت — Page 180

خطبات طاہر بابت شہدا 173 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔۱۹۳۷ء مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد ریاست کشمیر کے محکمہ تعلیم میں ملا زم ہوئے اور کٹھوعہ اور کشتواڑ کے دور دراز علاقوں میں طویل عرصہ بطور استاد کام کرنے کے بعد اپنے قریبی گاؤں منز گام میں اپنی ملازمت پوری کی۔ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زمینوں وغیرہ کو سنبھالا اور ۱۹۷۸ء کے سالانہ جلسہ قادیان میں شمولیت کے لئے آئے مگر کشمیر سے آپ کے بھانجے کی اچانک وفات کی اطلاع ملنے پر کشمیر چلے گئے۔ابھی آپ کو کشمیر پہنچے چند روز ہی ہوئے تھے کہ ۴ را پریل ۱۹۷۹ء کو پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو جب پھانسی دی گئی تو کشمیر میں لوگوں نے جماعت اسلامی کے دیہات پر حملے شروع کر دیئے۔۱/۵اپریل کو حملوں کا رخ جماعت کی طرف مڑ گیا یا موڑ دیا گیا۔مولوی نوراحمد صاحب کے گاؤں کو ریل کی اکثر آبادی احمدیوں پر مشتمل ہے اور اس سے چند فرلانگ کے فاصلہ پر آسنور گاؤں ہے جو کوریل سے بہت بڑا ہے اور اس کی بھی ساری آبادی احمدی ہے۔۵ / اپریل ۱۹۷۹ء کو دن کے دو بجے ہزاروں لوگوں پر مشتمل ہجوم آپ کے گاؤں کو ریل میں داخل ہوا اور احمدیوں کے پندرہ گھروں کو آگ لگانے اور لوٹنے کے بعد مولوی نوراحمد صاحب کے گھر کا رخ کیا۔مولوی صاحب نے اپنے مکان کی تیسری منزل پر اپنے دو بیٹوں مسعود احمد اور شمیم احمد کے ساتھ مل کر حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کر دی۔فائرنگ کے نتیجہ میں ہجوم پیچھے ہٹ جاتا اور پھر حملہ آور ہوتا۔اس طرح ساڑھے چار بج گئے۔غالباً آپ کے پاس کارتوس ختم ہو گئے تھے۔چنانچہ حملہ آور گھر میں داخل ہو گئے۔آپ کے دونوں بیٹے تو بیچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے مگر مولوی نوراحمد صاحب حملہ آوروں کے قابو میں آگئے۔دشمن آپ کو گھسیٹ کر صحن میں لے آیا اور پتھروں سے کوٹ کوٹ کر آپ کو شہید کر دیا۔حملہ آور آپ کی لاش کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ان حملہ آوروں میں بہت سے نوجوان آپ کے شاگر د بھی تھے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شہید نے اپنے پیچھے اپنی اہلیہ آمنہ بیگم ، دو بیٹے مسعود احمد اور شمیم احمد اور ایک بیٹی چھوڑے ہیں۔۴ راور ۵ / اپریل کے اس سانحہ میں وادی کشمیر میں اور بھی مختلف احمدی دیہات میں احمدیوں کے چار سو گھر کوٹے اور جلائے گئے تھے اور کئی مساجد شہید کر دی گئی تھیں۔