شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 297

شہدائے احمدیت — Page 176

خطبات طاہر بابت شہداء 169 خطبہ جمعہ ۲۵ / جون ۱۹۹۹ء کرتے رہے اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ حافظ تو کافر ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ بچے لے کر چلیں۔اس پر رشیدہ بیگم نے کہا کہ اگر حافظ صاحب کا فر ہو گئے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ کا فر ہی ہوں۔اگر یہ دوزخ میں جائیں گے تو میں بھی دوزخ میں جاؤں گی۔چنانچہ وہ مایوس لوٹ گئے۔۱۹۷۶ء کے جلسہ سالانہ پر ربوہ آئیں۔جب مستورات میں غیر معمولی اخوت اور پیار محبت کا نمونہ دیکھا تو کہنے لگیں یہ خدائی تصرف ہے ورنہ عورتوں میں اس قسم کی تربیت ہرگز نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اسی سال گھر جا کر باقاعدہ بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئیں اور آخر دم تک نہایت اخلاص اور وفاداری سے اس عہد بیعت کو نبھایا اور اس راہ میں ہر دکھ اور قربانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ہر روز گھر میں کئی غیر از جماعت وفود کی صورت میں آتے اور بحث و مباحثہ کرتے اور روحانی اذیت پہنچاتے مگر باوجود ان کے سخت رویہ کے مرحومہ ان کی بڑے اخلاص اور محبت سے خدمت کرتی تھیں۔مرحومہ خدا کے فضل سے پہلے بھی نماز وروزہ اور تہجد کی پابند تھیں لیکن قبول احمدیت نے تو اس صفت کو چار چاند لگا دیئے اور وہ بجگانہ نمازوں اور نماز تہجد کے علاوہ اور نوافل بھی بڑے اہتمام سے ادا کر نے لگیں۔بہت سی سچی خوا میں دیکھنے لگیں۔غریبوں کی بہت مدد کرنے والی اور افراد جماعت کا بہت احترام اور عزت کرنے والی خاتون تھیں۔جماعتی پروگراموں اور تنظیموں کے ساتھ بہت تعاون اور دلچسپی کا مظاہرہ کرتی تھیں۔چندہ جات با قاعدگی سے ادا کرتیں اور اپنی خدا داد صلاحیتوں سے عورتوں میں خوب تبلیغ کرتی تھیں۔۸/اگست ۱۹۷۸ء کو رمضان المبارک کی تین تاریخ تھی۔قاری صاحب نماز تراویح پڑھا کر آئے تو دیکھا کہ بیٹھک میں دو مہمان آئے بیٹھے ہیں۔وہ پرانے دوست تھے۔جب ان سے فارغ ہوکر اندر آئے تو بیوی سے پوچھا کیا بات ہے آپ ابھی تک سوئی نہیں۔کہنے لگیں حافظ جی مجھے آج نیند نہیں آرہی۔حافظ صاحب نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ کہنے لگیں کہ کل رات خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جس لڑکے کو تو نے خود پالا ہے وہ تیرا قاتل ہے۔یہ لڑکا قاری صاحب کا بھتیجا تھا۔عبداللہ نام تھا اور تقریباً 9 ماہ کی عمر سے ہیں سال کی عمر تک مرحومہ نے اسے پالا تھا۔ان کی سچی خوا میں بھی دیکھیں کتنی عظیم الشان ہیں، کیسی صفائی سے پوری ہوئیں ان کو یہ یقین تھا۔اس کا کوئی والی وارث نہ تھا۔اب اپنوں اور غیروں نے اسے ورغلا کر اپنی مربیہ ماں کا مخالف بنادیا تھا۔کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے اب