شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 297

شہدائے احمدیت — Page 162

خطبات طاہر بابت شہداء 155 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء اليه راجعون حملہ آوروں نے آپ کو شہید کرنے کے بعد نعش کو تھور نالہ میں بہا دیا۔مکرم خواجہ برکات احمد صاحب محلہ ناصر آبا در بوہ بیان کرتے ہیں کہ خاکساران دونوں علاقہ داریل میں رہائش پذیر تھا۔اطلاع ملنے پر تھور نالہ پہنچا۔مقامی نمبر دار شیر غازی کے تعاون سے مرحوم کی نعش تلاش کی گئی۔چلاس پولیس کو اطلاع کی گئی تھی اس لئے وہ بھی ہمراہ تھی۔سکول سے ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گہری جگہ صرف آپ کے پاؤں کی انگلیاں دکھائی دیں جن پر سے گوشت گل گیا تھا۔نعش نکالی گئی اور سکول کے احاطہ میں ہی آپ کی تدفین کی گئی۔بعدہ ملزمان پکڑ لئے گئے مگر معمولی سزا کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔دنیا میں تو بعض اوقات معمولی سزا ہی ملتی ہے اور دنیا کی سخت سزا بھی اس سزا سے بہت معمولی ہے جو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کی طرف سے دی جائے گی۔پسماندگان: آپ غیر شادی شدہ تھے۔آپ کے چھوٹے بھائی محمد عبد اللہ صاحب مقبوضہ کشمیر میں بطور مربی سلسلہ کام کر رہے ہیں۔مکرم چودھری حبیب اللہ صاحب آف قبولہ مکرم چودھری حبیب اللہ صاحب آف چک حسن آرا ئیں۔تاریخ شہادت ۱۳/جون ۱۹۶۹ء۔آپ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے جس کی وجہ سے رشتہ داروں سمیت پورا گاؤں آپ کی مخالفت کرتا تھا۔آپ کے والدین نے احمدیت قبول کرنے کے جرم میں آپ کو گھر سے نکال دیا تو ساہیوال میں آکر اپنے برادر نسبتی کے ہاں رہنے لگے جہاں آپ محنت مزدوری کرتے تھے۔کچھ عرصہ بعد ان کی والدہ ان کو واپس اپنے گاؤں ”چک حسن آرا ئیں“ تحصیل عارف والا ضلع پاکپتن میں لے گئیں۔آپ کے والد صاحب، والدہ اور دیگر اقرباء آپ پر زور دینے لگے کہ احمدیت چھوڑ دیں۔آپ کو اس جرم میں اکثر مارا پیٹا جاتا مگر آپ نے نہ بوڑھے والدین کی خدمت سے منہ موڑا ، نہ احمدیت سے۔اسی دوران آپ کے والد صاحب کی وفات ہو گئی۔آپ نے تجہیز و تکفین کا مکمل انتظام کیا مگر آپ نے اپنے غیر احمدی والد کا جنازہ نہ پڑھا جس سے آپ کے غیر احمدی چا اور دیگر اقرباء نے بڑا شور کیا اور آپ کی مخالفت کھلے عام ہونے لگی۔اس گاؤں کے مولوی کو آپ کئی دفعہ بحث میں