شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 297

شہدائے احمدیت — Page 161

خطبات طاہر بابت شہداء 154 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء پس میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غائب ہے تاکید کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو چندے سے باخبر کرو۔ہر ایک کمزور بھائی کو بھی چندہ میں شامل کرو۔یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں“۔پھر فرماتے ہیں: یہ ظاہر ہے کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا“۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم مطبوعہ لندن صفحه ۴۹۷) مکرم ماسٹر غلام حسین صاحب گلگت اس مختصر تحریک کے بعد اب میں شہداء کا ذکر کرتا ہوں جو خلافت ثالثہ کے زمانے میں شہید ہوئے اور اس تعلق میں سے سب سے پہلے ماسٹر غلام حسین صاحب ولد عبدالکبیر بٹ صاحب کا ذکر کروں گا۔تاریخ شہادت اکتوبر ۱۹۶۷ء ہے۔آپ ۱۹۴۹ء یا ۱۹۵۰ء میں ترک پورہ بانڈی پورہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے گلگت آگئے تھے۔یہاں چند سال خواجہ ثناء اللہ صاحب مرحوم کے پاس ملازمت کرتے رہے پھر آپ گلگت میں ہی سکول ماسٹر کے طور پر بھرتی ہوئے اور مختلف اوقات میں مختلف سکولوں میں بطور ٹیچر کام کرتے رہے۔گلگت سے آپ کا تبادلہ چلاس میں ہوا۔پھر غالبا ۱۹۶۶ء میں چلاس سے ہیں پچیس کلو میٹر کے فاصلہ پر تھور نالہ میں آپ کا تبادلہ ہوا۔احمدیت کی بنا پر وہاں آپ کی مخالفت ہوئی اور غالبا اکتوبر ۱۹۶۷ء میں جب آپ سکول میں ہی رہائش پذیر تھا آپ پر رات کو حملہ کیا گیا اور دشمنوں نے آپ کو نماز پڑھنے کی حالت میں جائے نماز پر ہی ذبح کر دیا اور یوں یہ سادہ مزاج ، نیک فطرت، نرم دل اور تہجد گزار مخلص احمدی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا۔انا للہ وانا