شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 297

شہدائے احمدیت — Page 158

خطبات طاہر بابت شہداء 150 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء حملہ آور ہوئے۔اگر چہ آپ نے حفظ ماتقدم کے طور پر فائر کر کے ان کو ڈرایا مگر وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ان میں سے ایک حملہ آور نے آپ کو گولی مار دی جس سے آپ موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔انالله واناالیه راجعون۔شہادت کے بعد ان بد بختوں نے آپ کے بے جان جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔پھر آپ کی نعش کو گھسیٹ کر گلی کے چوراہے پر لے آئے اور پتھر مار مار کر بری طرح کچلا اور اپنی دانست میں مسخ کر دیا۔آپ موصی تھے لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر آپ کمرو ہیں دفن کر دیا گیا۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کے بھائی مکرم احمد جان خان صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں آپ کی میت ربوہ بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضور نے ان کو جواب دیا کہ شہید جہاں دفن ہوتا ہے وہی جگہ اس کے لئے جنت ہوتی ہے۔ایک وقت آئے گا جب ان شہداء کی قربانی رنگ لائے گی اور لوگ کہیں گے کہ یہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کو احمدیت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔البتہ حضور نے بہشتی مقبرہ میں آپ کا یادگاری کتبہ کی اجازت مرحمت فرمائی جس کی تعمیل کر دی گئی۔شہادت کے وقت آپ کی عمر باون سال تھی۔آپ کی بیوہ مکرمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ آج کل ربوہ میں اپنے بچوں کے پاس مقیم ہیں۔بچوں میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں آپ کی یادگار ہیں۔سب سے بڑے بیٹے مکرم آفتاب احمد خان صاحب شادی شدہ ہیں اور بیوی بچوں سمیت متحدہ عرب امارات میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔دوسرے بیٹے مکرم انوار احمد خانصاحب بھی شادی شدہ ہیں اور مع اہل وعیال ربوہ میں ہیں۔خان بابا سپر سٹور کے نام سے گول بازار ر بوہ میں گارمنٹس اور جنرل سٹور کا کام کرتے ہیں۔تیسرے بیٹے مکرم امین احمد خان صاحب ہیں۔بیٹیوں کے اسماء حسب ذیل ہیں:۔مکرمہ رسول بیگم صاحبه زوجہ مکرم محمد اقبال خان صاحب جو چپ بورڈ فیکٹری جہلم میں ملازم ہیں۔مکرمہ فرحت حسین صاحبه زوجہ مکرم بشیر احمد خان صاحب جو تر بیلا میں اپنا کام کر رہے ہیں اور مکر مہ امتہ المجیب صاحبہ زوجہ اعجاز احمد خان صاحب ہیں جو راولپنڈی میں پرائیویٹ سروس کرتے ہیں۔مکافات عمل: جس شخص نے آپ کو شہید کیا تھا اس پر جولائی ۱۹۷۴ء کے تیسرے ہفتہ میں آسمانی بجلی گری اور وہ جھلس کر مر گیا۔