شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 297

شہدائے احمدیت — Page 152

خطبات طاہر بابت شہداء 144 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء ایک عزیز مکرم حق نواز صاحب نے اپنی گاڑی میں ڈال کر لا ہور کا قصد کیا لیکن آپ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور رستہ میں ہی دم توڑ گئے۔انالله وانا اليه راجعون۔بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے چھوڑے۔اہلیہ فروری ۱۹۹۰ء میں وفات پاگئیں اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اور بچوں میں سے بیٹی نشاط افزا ڈسکہ میں بیاہی ہوئی ہیں۔بڑے بیٹے شفقت حیات گوجرانوالہ میں کاروبار کرتے ہیں۔دوسرے بیٹے عظمت حیات ٹورانٹو (کینیڈا) میں آباد ہیں۔جبکہ تیسرے بیٹے سعادت حیات صاحب جرمنی میں مقیم ہیں۔مکرم قریشی احمد علی صاحب گوجرانوالہ قریشی احمد علی صاحب گوجرانوالہ۔یوم شہادت: یکم جون ۱۹۷۴ء۔آپ ۱۹۴۳ء میں سنداں والی ضلع سیالکوٹ میں مکرم حکیم فضل دین صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔بلوغت کے بعد گوجرانوالہ شہر میں منتقل ہو گئے۔واقعہ شہادت : ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو گوجرانوالہ میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔آپ کے بیٹے ڈاکٹر ناصر احمد صاحب جو ناظم اطفال ضلع تھے اور جماعت کی طرف سے حالات کا جائزہ لینے کی ڈیوٹی پر تھے، نے گھر آکر اپنے والد محترم کو بتایا کہ حالات خراب ہیں۔کہنے لگے کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔۳۰ مئی کو حالات مزید خراب ہو گئے۔چنانچہ یکم جون کو عورتیں اور بچے قریشی مجید احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ جیل کے گھر پہنچا دیئے گئے۔اور مردوں کو گل روڈ میں ایک احمدی گھرانے میں اکٹھا کر دیا گیا۔جلوس نے ان کا رخ کیا اور سب سے پہلے سعید احمد خان صاحب اور ان کے خسر مکرم چودھری منظور احمد صاحب کو شہید کیا گیا۔ان کے گھر قریشی احمد علی صاحب بھی تھے۔شرپسند بعد ازاں پھر ان پر حملہ آور ہوئے اور ان پر کسی کا وار کیا گیا جو اتنا گہرا لگا کہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔مکرم سعید احمد خان صاحب گوجرانوالہ سعید احمد خان صاحب ابن محمد یوسف صاحب مندوخیل - تاریخ شہادت: یکم جون ۱۹۷۴ء۔سعید احمد صاحب شہید ۲۶ مئی ۱۹۳۷ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔میٹرک کا امتحان لاہور سے پاس کیا اور لاہور ہی سے ایف۔اے کیا۔۱۹۶۳ء میں ان کی شادی