شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 297

شہدائے احمدیت — Page 153

خطبات طاہر بابت شہداء 145 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء انیسہ طیب صاحبہ بنت چودھری منظور احمد صاحب سے ہوئی۔فیصل آباد میں سیکرٹری مال اور قائد خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ملازمت کے سلسلہ میں کوئٹہ کے قیام کے دوران وہاں بھی قائد خدام الاحمدیہ رہے۔آپ نے نیروبی کینیا میں بھی کچھ عرصہ گزارا۔وہاں پہلے نائب قائد خدام الاحمدیہ تھے پھر قائد خدام الاحمدیہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔پھر گوجرانولہ منتقل ہو گئے۔جب آپ نے سول لائن گوجرانوالہ میں اپنا مکان بنوایا تو ساتھ ہی مسجد احمدیہ کی بنیاد رکھ دی۔احاطہ گھیر کر اس پر مسجد احمدیہ کا بورڈ لگا دیا۔اسی دن سے مولوی حضرات نے جو قریبی مسجد کے تھے، آپ کی سخت مخالفت شروع کر دی۔۱۹۷۴ ء کے حالات سے پہلے ہی مسجد سے بورڈ اتارنے اور مسجد احمدیہ کو شہید کرنے اور آپ کے قتل کے پروگرام بن چکے تھے۔واقعہ شہادت: یکم جون ۱۹۷۴ء بروز ہفتہ سول لائن گوجرانوالہ میں صبح کے وقت جلوس آیا اور ساتھ ساتھ پولیس والے بھی تھے۔مکرم سعید احمد خان صاحب تھانے دار کے پاس گئے کہ جلوس کو روکو مگر کافی بحث کے بعد کچھ نتیجہ نہ نکلا۔آخر جب آپ واپس آنے لگے تو اس تھانے دار نے اشارہ کیا۔اس پر جلوس مکرم سعید احمد خان صاحب پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور ڈنڈوں سے آپ کو بے دردی سے موقع پر ہی شہید کر دیا۔اناللہ وانا الیه راجعون۔پسماندگان : شہید مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیٹا اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔بڑا بیٹا رشید احمد خان آج کل آسٹریلیا میں ہے۔بیٹی منورہ کینیڈا میں ہے اور مکرم مبارک اعظم صاحب کی اہلیہ ہیں۔سیکرٹری تربیت کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔دوسری بیٹی فرزانہ منیب صاحبہ بھی شادی شدہ ہیں جن کے میاں مکرم رائے منیب احمد صاحب آج کل نائب ناظم انصار اللہ شیخو پورہ ہیں۔تیسری بیٹی شبنم نواز ان دنوں کینیڈا میں ہیں۔چوتھی بیٹی در مشین مسرور صاحبہ ہیں جن کی شادی مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی کے پوتے مسرور احمد صاحب سے ہوئی ہے اور ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں۔مکرم بشیر احمد صاحب، مکرم منیر احمد صاحب گوجرانوالہ شہادت بشیر احمد صاحب ، منیر احمد صاحب گوجرانوالہ - یوم شہادت ۲ جون ۱۹۷۴ء۔بشیر احمد صاحب مرکز احمدیت قادیان کے ایک قریبی گاؤں ٹوڈرمل میں ۱۹۴۳ء میں پیدا ہوئے۔بوقت ہجرت آپ کی عمر چار سال تھی۔میٹرک کے بعد محکمہ صحت میں ملازمت اختیار کر لی اور آخری وقت تک