شہدائے احمدیت — Page 150
خطبات طاہر بابت شہداء 142 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء شہادت یکم جون ۱۹۷۴ء۔چودھری منظور احمد صاحب کی بیوہ محترمہ صفیہ صدیقہ صاحب لکھتی ہیں کہ جون ۱۹۷۴ء میں جب حالات خراب ہوئے تو پولیس ان کے بیٹے مقصود احمد کو ایک مولوی کے کہنے پر دکان سے گرفتار کر کے لے گئی اور حوالات میں بند کر دیا۔اگلے دن جلوس نے گھروں پر حملہ کر دیا۔عورتوں کو ایک احمدی گھر پر جو بظا ہر محفوظ تھا پہنچا دیا گیا۔بعض لوگوں نے بتایا کے ان کے گھروں کو جلوس نے آگ لگا دی ہے اور وہاں پر موجود تمام افراد زخمی ہو گئے ہیں۔حالانکہ اس وقت تک وہ شہید کئے جاچکے تھے۔اس دن شام کو جب ایک ٹرک چھ شہیدوں کو لے کر را ہوالی پہنچا تو اس وقت پسماندگان کو پتہ چلا کے ان کے پیارے شہید ہو چکے ہیں۔جلوس کے خطرے سے جو پیچھے لگا ہوا تھا ٹرک ان لاشوں کو لے کر چلا گیا اور پسماندگان ان کے چہرے بھی نہ دیکھ سکے۔صفیہ صدیقہ صاحبہ اپنے بیٹے کی شہادت کا واقعہ مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جلوس کے ساتھ جو پولیس تھی اس کا ایک سپاہی راہوالی کا رہنے والا تھا۔اس نے بتایا کے یکم جون کو سول لائن میں ایک گھر کی چھت پر جو معرکہ گزرا وہ دیکھ کر مجھے معلوم ہوا کہ صحابہ کیسے جان نثار کرتے تھے۔اس نے کہا، میں اس لڑکے کو کبھی بھلا نہیں سکوں گا جس کی عمر بمشکل سترہ اٹھارہ برس ہوگی۔سفید رنگ اور لمبا قد تھا۔اس کے ہاتھوں میں ایک بندوق تھی۔جلوس میں شامل لوگوں کی ایک بڑی تعداد پولیس سمیت اس کے مکان کی چھت پر چڑھ گئی۔ہمارے ایک ساتھی نے جاتے ہی اس کے ہاتھ پر ڈنڈا مارا اور بندوق چھین لی۔جلوس اس لڑکے پر تشدد کر رہا تھا۔جلوس میں سے کسی نے کہا: ”مسلمان ہو جاؤ اور کلمہ پڑھو۔“ اس نے کلمہ پڑھا اور کہا میں سچا احمدی مسلمان ہوں۔جلوس میں سے کسی نے کہا کہ مرزا کو گالیاں دو۔اس لڑکے نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا یہ کام میں نہیں کرسکتا، یہ کام میں کبھی نہیں کروں گا اور ان کی ایک نہ سنی۔اس نے کہا تم مجھے اس کو گالیاں دینے کے بارہ میں کہہ رہے ہو جو اس جان سے بھی زیادہ پیارا ہے اور ساتھ ہی اس نے مسیح موعود زندہ باد اور احمد بیت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔نعرہ لگانے کی دیر تھی کہ جلوس نے اس لڑکے کو چھت سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا اور اس پر اینٹوں اور پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔چھت پر بنے ہوئے پردوں کی جالیاں تو ڑ کر بھی اس پر پھینکیں۔یہ وہ واقعہ ہے جو اس دن اس پولیس والے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ان ظالموں کا کیا انجام ہوا۔اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔مگر اکثر ایسے لوگ آخرت کے علاوہ دنیا کے عذاب میں بھی مبتلا