شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 297

شہدائے احمدیت — Page 149

خطبات طاہر بابت شہداء 141 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء اپنے ہمسایوں کے گھر بھیج دیا اور خود باپ بیٹا گھر پر ٹھہر گئے کیونکہ اس وقت ہدایت یہی تھی کہ کوئی مرد اپنا گھر نہیں چھوڑے گا لیکن عورتوں اور بچوں کو بچانے کی خاطر ان کو بے شک محفوظ جگہوں میں پہنچادیا جائے۔کہتی ہیں کہ سارا دن شور بپار ہا اور حملہ ہوتارہا۔توڑ پھوڑ کی آوازیں آتی رہیں۔مگر ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ باپ بیٹے پر کیا گزری اور ظالموں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔رات ہمیں ایک اور جگہ منتقل کر دیا گیا۔وہاں اپنے خاوند افضل صاحب اور اپنے بیٹے اشرف کا انتظار کرتی رہی۔رات گیارہ بجے ان کو بتایا گیا کہ دونوں باپ بیٹا شہید ہو گئے ہیں۔انــالــلــه وانــا اليــه راجعون۔بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں بڑے دردناک طریقے سے مارا گیا تھا۔چھرے مارے گئے۔انتڑیاں باہر نکل آئیں۔پھر اینٹوں سے سر کوٹے گئے۔اس طرح پہلے بیٹے کو باپ کے سامنے مارا گیا۔جب اس نوجوان بیٹے کو اس طرح کچل کچل کر مار دیا گیا تو پھر باپ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اب بھی ایمان لے آؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔ایک موقع کے گواہ کے بیان کے مطابق افضل نے جواب دیا کہ کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے ایمان میں کمتر سمجھتے ہو جس نے میرے سامنے اس بہادری سے جان دی ہے۔جب آخری وقت سسکتے ہوئے وہ پانی مانگ رہا تھا تو گھر پر جو عمارت کے لئے ریت پڑی تھی وہ اس کے منہ میں ڈال دی اور باپ نے یہ نظارہ بھی دیکھا اس نے کہا جو چاہوکرلو، اس سے بدتر سلوک مجھ سے کرو مگر اپنے ایمان سے متزلزل نہیں ہوں گا۔اس پر ان کو اسی طرح نہایت ہی دردناک عذاب دے کر شہید کیا گیا۔اور پھر دونوں کی نعشیں تیسری منزل سے گھر کے نیچے پھینک دی گئیں اور سارا دن کسی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ ان کی نعش کو اٹھا سکے۔مکرم محمد افضل کھوکھر شہید نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے دو بیٹیاں طیبہ سعید صاحبہ اور طاہرہ ماجد صاحبہ کینیڈا میں مقیم ہیں ایک بیٹی عزیزہ ثمینہ یاسمین رصاحبہ یہاں یو کے میں آباد ہیں۔دونوں بیٹے آصف محمود کھوکھر اور بلال احمد کھوکھر بھی کینیڈا میں مقیم ہیں اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں اور تمام پسماندگان خدا کے فضل سے دین و دنیا کی نعمتوں سے متمتع ہیں۔چودھری منظور احمد صاحب اور چودھری محمود احمد صاحب گوجرانوالہ شہادت چودھری منظور احمد صاحب اور چودھری محمود احمد صاحب گوجرانوالہ۔تاریخ