شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 297

شہدائے احمدیت — Page 142

خطبات طاہر بابت شہداء 134 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء افراد جاں بحق ہوئے ان میں محترمہ امتہ المتین صاحبہ اور ان کے چار بچے عزیزہ ناصرہ ظفر صاحبہ عمر پندرہ سال عزیزه ساره ظفر عمر بارہ سال، عزیزه رابعه بشری عمر ساڑھے دس سال اور عزیز عطاء امنعم اکمل عمر چھ سال شامل تھے۔انالله وانا اليه راجعون۔محمد افضل ظفر صاحب کے بچوں میں سے صرف دو بیٹیاں عزیزہ طاہرہ ظفر عمر چودہ سال اور عزیزہ عطیة امنعم عمر پانچ سال بچیں جو اس کشتی پر سوار تھیں جس میں محمد افضل ظفر صاحب بھی سوار تھے۔اور یہ کشتی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ گئی اور ان کی حالت بہت دردناک ہے۔ان کے لئے میں دعا کی تحریک کرتا ہوں اگر چہ بچنے والوں نے ، افضل صاحب نے بھی اور ان کی دو بچیوں نے بھی غیر معمولی صبر کا نمونہ دکھایا ہے ان سب غرق ہونے والے شہداء کو اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔مولوی محمد افضل ظفر صاحب کا خاندان تو خاص طور پر دوہری شہادت کا رتبہ پا گیا ہے۔ایک فریق کی شہادت جس کا خود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا اور دوسرے ایک واقف زندگی کی بیگم ہونے کے لحاظ سے اپنے وطن سے دور خدمت کے دوران انہیں اور ان کے بچوں کو جو حادثہ پیش آیا اس کی وجہ سے انہیں شہادت کا ایک اور مرتبہ بھی نصیب ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو غریق رحمت فرمائے۔آج کی فہرست عین وقت کے مطابق ختم ہوئی ہے۔باقی انشاء اللہ اگلے جمعہ سے پھر شہداء کا تذکرہ شروع کیا جائے گا۔ابھی تو بہت بڑی فہرست باقی ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ کب تک سلسلہ چلے گا۔