شہدائے احمدیت — Page 129
خطبات طاہر بابت شہداء 121 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء کے بنتے ہی اس کے کارکنوں کو شہادت کا موقع مل جائے اس کے مستقبل کے شاندار ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا اور غیرت مند افرادا اپنی روایات کے قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔پس یہ موت تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک حکمت کام کرتی نظر آرہی ہے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحه ۴۵۴۰) عدالت خان صاحب آف خوشاب دوسرے شہید جو ہندوستان کی تقسیم کے دوران شہید ہوئے۔عدالت خان صاحب تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور۔عدالت خان صاحب قادیان میں دینیات کی متفرق کلاس میں پڑھتے تھے۔۱۹۳۴ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احمدی نوجوانوں کو تحریک فرمائی کہ دوسرے ممالک میں اپنے ذرائع سے جا کر وہاں احمدیت کی تبلیغ کریں تو عدالت خان صاحب قادیان سے اچانک غائب ہو گئے۔اس وقت یہی سمجھا گیا کہ شاید وہ پڑھائی سے دلبرداشتہ ہو کر بھاگ گئے ہیں۔دراصل عدالت خان صاحب حضور کی تحریک پر فوری تعمیل کی غرض سے سفری دستاویزات کے بغیر افغانستان پہنچ گئے تھے۔وہاں حکومت نے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔جیل میں انہوں نے قیدیوں میں تبلیغ شروع کر دی۔جب حکومت کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے عدالت خان صاحب کو ہندوستان کی سرحد پر لا کر چھوڑ دیا۔عدالت خان صاحب قادیان آئے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساری روئیداد سنا کر درخواست کی کہ انہیں کسی اور ملک میں جانے کا ارشاد فرمایا جائے۔حضور نے انہیں فرمایا کہ تم چین چلے جاؤ۔چین جاتے ہوئے عدالت خان صاحب کو کشمیر کی حکومت نے پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے روک لیا۔سردیوں کا موسم تھا اور عدالت خان صاحب کے پاس لباس وغیرہ واجبی سا تھا۔آپ کو ڈبل نمونیا ہو گیا اور دو دن بعد وہ وفات پاگئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔ان کی شہادت میں بھی ایک عظیم الشان نشان احمدیت کے لئے ظاہر ہوا ہے وہ اس طرح کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کے موقع پر عدالت خان کے ذکر میں ان کا ایک ایمان افروز واقعہ یوں بیان فرمایا: