شہدائے احمدیت — Page 85
خطبات طاہر بابت شہداء 80 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء شہادت کے ساتھ فرقان بٹالین میں شامل ہوئے تھے۔مکرم منظور احمد صاحب او جلوی چوتھے نمبر پر مکرم منظور احمد صاحب او جلوی تھے جو ۷/ دسمبر ۱۹۴۸ء کو کشمیر کے محاذ پر شہید ہوئے۔یہ بھی غیر شادی شدہ تھے۔ایک بہن زندہ ہیں اور والدین فوت ہو چکے ہیں۔اب ان کی بہن جو شاید سن رہی ہوں اللہ کرے کہ ابھی زندہ ہوں تو وہ اس بارے میں مزید معلومات ہمیں مہیا کرسکتی ہیں۔مکرم عبدالرزاق صاحب پانچویں نمبر پر مکرم عبدالرزاق صاحب کا ذکر کرتا ہوں جو جذ بہ شہادت کے شوق کے لحاظ سے دیوانوں کی طرح تھے تقسیم ہند سے پہلے بھی آپ کو احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے دفاع کی توفیق ملی یعنی قادیان اور اس کے ماحول میں خدمت کی توفیق ملی۔آپ ایک صحابی ابن صحابی کی اولاد تھے یعنی آپ کے باپ بھی ، آپ کے دادا بھی یہ دونوں صحابی تھے۔اگر چہ ان کے چا اور بھائی محاذ کشمیر پر جاتے ہوئے اس تاکید کے ساتھ ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے کہ تم یہیں رہو ہم جاتے ہیں لیکن ان کا شوق شہادت ان دونوں کے حکم پر غالب آگیا اور از خود خاموشی کے ساتھ محاذ کشمیر پر پہنچے اور ۲۱ دسمبر ۱۹۴۸ء کو بڑی دلیری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔شہادت کے وقت آپ چونکہ غیر شادی شدہ تھے اس لئے ظاہر ا پیچھے کوئی اولاد نہ چھوڑی۔گھر والوں کے اصرار پر کہ آپ واپس آ جائیں آپ نے ان کو معذرت کا خط لکھ دیا جس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ابدی شہادت پانے کوزندہ واپس لوٹنے پر ترجیح دیتے تھے اور بڑی دلی معذرت کے ساتھ آپ نے لکھا کہ اب میری واپسی کی توقع نہ کریں۔مکرم محمد اسلم صاحب مانگٹ چھ نمبر پر مکرم محمد اسلم صاحب مانگٹ کا ذکر کرتا ہوں۔یہ چوہدری جہان خان صاحب صحابی کہ چھوٹے بیٹے تھے۔چوہدری جہان خان کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال سے پہلے آپ کی بیعت کرنے والے آخری صحابی چوہدری جہان خان صاحب تھے۔یہ چوہدری محمد افضل صاحب مانگٹ جو کسی وقت امیر ضلع حافظ آباد ر ہے ہیں ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ان کی شہادت ۱۹۴۸ء میں فرقان محاذ پر ہندوستان کی شدید بمباری کے نتیجے