شہدائے احمدیت — Page 76
خطبات طاہر بابت شہداء 71 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء وصیت پوری کر دی ہے اور یہ پیغام دے کر انہوں نے جان دے دی۔قادیان کی خونریز جنگ“ بحوالہ تاریخ احمدیت یہ واقعہ درج ہے۔( تاریخ احمدیت جلدا اصفحہ: ۱۸۸ ۱۹۰) مکرم محمد رمضان صاحب آف کھارا اور انکا خاندان اب ایک واقعہ محمد رمضان ، عالم بی بی ، چراغ دین ، جان بی بی منور احمد وغیرہ شہداء کا میں بیان کرتا ہوں۔ٹھیکیدار ولی محمد صاحب جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابھی زندہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم محمد رمضان صاحب کا خاندان موضع کھارا نز دقادیان کا رہائشی تھا۔ان کا خاندانی پیشہ زمینداری تھا۔پہلے ان کا خاندان کسی پیر کا مرید تھا۔خدا کے فضل سے ۳۶ ء یا۳۷ء میں سب خاندان احمدی ہو گیا۔مکرم محمد رمضان صاحب اور مکرم چراغ دین صاحب جو دونوں بھائی مخلص احمدی تھے، دیانت میں اتنے مشہور تھے کہ جب غدر کے وقت حالات خراب ہوئے تو اکثر لوگ اپنی امانتیں محمد رمضان کے پاس آکر جمع کرایا کرتے تھے۔ان کو یقین تھا کہ یہاں ان کا مال محفوظ رہے گا۔جب ہندو تاجر کھارا کے علاقہ میں آباد ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے گورنمنٹ سے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ علاقہ خالی کر کے دیا جائے۔سکھوں اور ہندوؤں کے کردار کا یہ فرق ہے کہ سکھ تو بزور شمشیر خود علاقہ خالی کروالیا کرتے تھے۔ہندوؤں کا یہ مطالبہ تھا کہ پہلے خالی کراؤ پھر ہم جائیں گے۔تو پرانے بنی اسرائیلیوں کی کچھ روایات ان میں ابھی تک زندہ ہیں۔بہر حال انہوں نے حکومت سے یہ درخواست کی اور حکومت خاص طور پر ہندوؤں کا تو بہت ہی لحاظ کرتی تھی کہ ہمیں پہلے خالی کرا دو پھر ہم داخل ہوں گے۔جب قادیان میں جماعت کو علم ہوا کہ کھارا کے احمدی اس وقت مشکل میں ہیں تو کچھ خدام سینوں پر اسلحہ باندھ کر ہماری مددکو پہنچے۔یعنی ولی محمد صاحب یہ واقعہ بیان کر رہے ہیں۔سکھوں نے ان کی مزاحمت کی مگر خدام نے جرات اور بہادری کے ساتھ سکھوں پر فائرنگ کی حتی کہ گاؤں کا ایک حصہ سکھوں سے بالکل خالی کر دیا اور خدام گاؤں کے اندر داخل ہو گئے اور احمدیوں کو کہا کہ آپ لوگ سورج نکلنے سے پہلے قادیان چلے جائیں تب آپ لوگ بیچ سکتے ہیں۔چنانچہ اسی ہدایت پر ٹھیکیدار ولی محمد صاحب کے بزرگوں کے سوا سب احمدی سورج نکلنے سے پہلے قادیان چلے گئے مگر ٹھیکیدار ولی محمد صاحب کے بزرگ قائم رہے کہ نہیں ہم یہ جگہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔یہ گھرانہ چونکہ زمینداری کی وجہ سے مشہور تھا لہذا اسکھوں کا خیال تھا کہ یہاں بہت زیادہ۔