شہدائے احمدیت — Page 77
خطبات طاہر بابت شہداء 72 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء مال و دولت ہوگی۔سکھوں نے جب اس گھر پر حملہ کیا تو اس حملے میں ٹھیکیدار ولی محمد صاحب کی والدہ محترمہ عالم بی بی صاحبہ، چچا چراغ دین صاحب، بچی جان بی بی صاحبہ، چچا کا بیٹا تین سالہ منور احمد اور چچا کی ایک بیٹی اور رشتے دار محمد شریف آف قادر آباد کو گھر پر ہی شہید کر دیا گیا۔حملے کے وقت اگر چہ محمد رمضان صاحب اپنے تین سالہ پوتے کو ساتھ لے کر گھر سے نکلنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر سکھوں نے پیچھا کر کے تالاب کے قریب ان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔مکرم نیاز علی صاحب اب ایک اور دوست مکرم نیاز علی صاحب کھاریاں کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں۔مکرم خواجہ غلام نبی صاحب بلا نوی بیان فرماتے ہیں کہ میرا ایک بچہ حمید جو مرکزی حفاظت کا فریضہ اد کرنے والوں میں شامل تھا اور محلہ کی مخدوش حالت پر اطلاع پا کر اور یہ سن کر کہ سکھوں کے حملے کا بہت بڑا زور ہمارے مکان کے پاس ہے میری خبر معلوم کرنے کے لئے گھر آیا تھا اور ہم یہ دیکھ کر کہ قریب قریب کی عورتیں اور بچے جاچکے ہیں اپنے مکان سے نکلے اور بابوا کبر علی صاحب مرحوم کی کوٹھی میں پہنچے جہاں مرکزی حفاظت کرنے والے نوجوان مقیم تھے۔میرے وہاں جانے کے تھوڑی دیر بعد انچارج صاحب کو اطلاع پہنچی کہ ایک مکان میں ابھی تک بہت سی عورتیں اور بچے محصور ہیں اور خطرہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ان کو بحفاظت نکالنے کا انتظام کیا جائے۔اس پر انچارج صاحب نے نوجوانوں کو آواز دی اور وہ دوڑتے ہوئے آکر ان کے گرد جمع ہو گئے اور جب انہیں بتایا گیا کہ فلاں مکان میں عورتیں اور بچے موجود ہیں ان کو نکال لائیں تو ایک لمحہ کے توقف کئے بغیر سارے کے سارے نوجوان جن کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہ تھی ملٹری اور سکھوں کی گولیوں اور سکھوں کی کر پانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے محض لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں دوسو کے قریب عورتوں اور بچوں کو بحفاظت نکال لائے۔یہ بھی رعب کی ،نصرت کی ایک عجیب مثال ہے۔ایک طرف فوج بھی تھی، پولیس بھی تھی سکھ ہر قسم کے ہتھیاروں، رائفلوں، کر پانوں وغیرہ سے مسلح اور مقابل پر یہ پندرہ ہیں صرف لاٹھی بردار اور ان کو یہ توفیق مل گئی کہ ان کے حملے کو چیرتے ہوئے ، ان کے جتھے کو چیرتے ہوئے بیچ میں سے راستہ بنایا اور محفوظ طریق پر عورتوں اور بچوں کو نکال لائے۔کسی قسم کی کسی گھبراہٹ کا کوئی اظہار نہیں کیا۔