شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 297

شہدائے احمدیت — Page 72

خطبات طاہر بابت شہداء 67 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء کرتے ہیں کہ فیض محمد صاحب سری گوبند پورہ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام نبی بخش تھا۔معمار کا کام کیا کرتے تھے۔آپ کی شہادت سے ایک رات قبل قادیان پر انڈین آرمی نے بہت زبردست فائرنگ کی اور صبح فجر کے بعد سکھ جتھے نے حملہ کر دیا ، اس طرح ہندوستانی فوج پہلے سکھ جتھوں کے لئے رستہ تیار کیا کرتی تھی پھر اس کے عقب میں جتھے حملہ آور ہو جایا کرتے تھے۔“ کہتے ہیں ”ہم تو وہاں سے ہجرت کر کے بورڈنگ میں منتقل ہو گئے تھے مگر فیض محمد صاحب نے اہل خانہ سمیت اپنا مکان نہ چھوڑا اور وہیں مقیم ر۔اب یہ بھی وہی روح ہے۔چونکہ امام کاحک تھا اپنے مکانوں پر قائم رہو اس لئے یقینی طور پر حملے کی خبر پانے کے باوجود یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے مکان میں ڈٹے رہے۔”جس وقت ہمارے مکان پر حملہ ہوا تو ہم گھر کے عقبی دروازے سے سو کے قریب افراد نکل کر بورڈنگ ہاؤس جاچکے تھے“۔یعنی یہ بیان دے رہے ہیں ٹھیکیدار عبدالرزاق صاحب کہ ہم جاچکے تھے، یہ بعد میں شہید ہوئے۔پنڈت محمد عبد اللہ صاحب نے اطلاع دی کہ فیض محمد صاحب، ان کی اہلیہ زہرہ بی بی ، ان کے جواں سال بیٹے عبدالجبار صاحب اور ایک چار سالہ بچی کو سکھوں نے تلواروں اور برچھیوں سے شہید کر دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔مکرم ملک حمید علی صاحب ایک شہادت ملک حمید علی صاحب کی بھی مذکور ہے۔یہ تاریخ میں درج ہے مگر اس کی تفاصیل موجود نہیں ہیں۔اس خطبہ کے سلسلہ کا ایک یہ بھی فائدہ پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا کہ اب جو بھی ان کے عزیز بنیں گے وہ انشاء اللہ ان کے متعلق تفصیلی معلومات مزید مہیا کر دیں گے۔ملک حمید صاحب کے متعلق جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ مکرم ملک بشیر احمد صاحب کنجاہی کے فرزند اور جناب ملک غلام فرید صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ایم۔اے کے رشتہ میں بھیجے تھے۔آپ کو ملٹری نے پکڑا اور ہائی سکول قادیان کے پیچھے لے جا کر گولی مار کے شہید کر دیا۔مکرم ماسٹر عبدالعزیز صاحب ایک شہید کا نام ماسٹر عبدالعزیز ہے۔ان کے متعلق بھی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔لیکن جو معلوم ہیں مختصری وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔آپ منگل باغبان متصل قادیان کے رہنے والے تھے۔