شہدائے احمدیت — Page 53
خطبات طاہر بابت شہداء 48 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار کر چلے زنداں نامہ نسخہ ہائے وفاصفحہ : ۲۶۴) تو جو میرے یار ہیں وہ ان کے بھی تو یار ہیں۔ان کے بھی یار ہیں جنہوں نے راہ احمدیت میں بے شمار قربانیاں پیش کیں۔تو یہ ذکر خیر جو آج میری زبان سے جاری ہورہا ہے ہوسکتا ہے آج کے قفس کی فضاؤں کو بھی روشن کر دے اور کچھ دیر تک وہ لوگ جو اس ذکر کو سنیں ان یادوں میں محو ہو جائیں جو ان کو بھی بہت پیاری ہیں اور اس سے خود تسلی پائیں کہ بڑی بڑی عظیم قربانیاں دینے والے وجود پہلے گزر چکے ہیں، ان کے مقابل پر تو ان لوگوں کی قربانیاں ماند ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔پس وہ سلسلہ ہے جسے اب ہم آگے بڑھاتے ہیں اور تعجب ہے کہ افغانستان میں اس سے اور بھی بہت زیادہ شہید ہوئے ہیں جتنا عام لوگوں کا تصور ہے۔صاحبزادہ محمد سعید جان اور صاحبزادہ محمد عمر جان افغانستان سب سے پہلے میں صاحبزادہ محمد سعید جان اور صاحبزادہ محمد عمر جان افغانستان کا ذکر کرتا ہوں۔۱۹۱۷ ء میں ضلع گجرات کے ایک مجذوب فضل کریم صاحب ہوا کرتے تھے جن کو تبلیغ کا بہت شوق تھا لیکن تھے مجذوب۔ان کو پتہ نہیں تھا کہ ان کی تبلیغ کی جرات کے نتیجہ میں احمدی بھائیوں کو کیا کیا مصیبتیں پڑیں گی۔بہر حال ان کے دل میں یہ سودا سمایا کہ وہ تبلیغ کی خاطر ۱۹۱۷ء میں روانہ ہو کر کابل چلے گئے او روہاں جا کر سردار نصر اللہ خان کو درخواست دی کہ میں احمدی ہوں اور بغرض تبلیغ آیا ہوں۔سردار نے ان کو فوراً گرفتار کر لیا اور پھر جب ان سے پوچھ گچھ کی اور کون کون احمدی ہیں تو اس مجذوب بے چارے نے ان سب کے نام لے دیئے جن کا اس کو علم تھا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے پانچ لڑکوں کو بھی ان کی نشاندہی پر گرفتار کر لیا گیا جوا بھی افغانستان میں ہی تھے۔انہیں شیر پور کے جیل خانے میں مقید کر کے ان کے پاؤں پر موٹی موٹی بیڑیاں ڈال دی گئیں اور اگر چہ ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا گیا مگر یہ دردناک اذیت ناک موت جو رفتہ رفتہ ان کو پہنچائی گئی یہ عام یکدفعہ کی شہادت سے زیادہ دردناک ہوا کرتی ہے۔چنانچہ آٹھ نو ماہ تک وہ جیل میں اس حالت میں