شہدائے احمدیت — Page 30
خطبات طاہر بابت شہداء 30 خطبه جمعه ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۹ء ذکر خیر کی وجہ سے بڑھاتا رہے۔تو یہ بہت ہی پیارا تبصرہ ہے اور اسی تعلق میں میں یہ سارے شہادتوں کے واقعات بیان کر رہا ہوں۔اگر چہ اب تک مختلف شہادتوں کے متعلق ابھی تفصیلی اعداد و شمار جمع نہیں ہو سکے کیونکہ بہت سی ایسی شہادتیں بھی ہیں جن کا ذکر اس وقت محفوظ نہیں ہے یا نمایاں طور پر اس وقت جو حوالے پیش کئے ہیں ان کے سامنے نہیں آسکا۔لیکن وہ رفتہ رفتہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی دور کی کوئی بھی شہادت باقی نہ رہے جس کا ذکر ہماری تاریخ میں نہ ہو چکا ہو۔حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید افغانستان آج میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کی شہادتوں کا ذکر حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید افغانستان کے ذکر سے کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو لندن میں قیام کے دوران یہ دردناک اطلاع پہنچی کہ امیر امان اللہ خان شاہ افغانستان کے حکم سے کابل میں ایک احمدی مبلغ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو ۳۱ راگست کو چونتیس سال کی عمر میں محض احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار کر دیا گیا۔انالله واناالیه راجعون۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب ابن امان اللہ خان صاحب کا بل کے قریبی گاؤں خوجہ تحصیل رخہ ضلع پنج شیر کے رہنے والے تھے اور افغانستان سے دینی تعلیم حاصل کر کے قادیان تشریف لائے تھے اور مدرسہ حد یہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ ۱۹۱۹ء میں دوران تعلیم ہی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں کابل کے احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے روانہ کر دیا۔آپ اپنے فرائض تندہی سے ادا کر رہے تھے کہ ۱۹۲۳ء کے آخر پر اطلاع ملی کہ دو احمدیوں کو افغانستان کی حکومت نے قید کر لیا ہے۔اس اطلاع کے بعد شروع جولائی ۱۹۲۴ء میں مولوی نعمت اللہ صاحب کو حکام نے بلایا اور بیان کیا کہ کیا وہ احمدی ہیں؟ پہلے تو انکو یہ صیح بیان دینے پر کہ وہ احمدی ہیں رہا کر دیا گیا مگر جلد ہی آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا۔یکم اگست ۱۹۲۴ء کو مولوی نعمت اللہ صاحب نے قید خانہ سے فضل کریم صاحب بھیروی مقیم کابل کو ایک خط لکھا۔یہ ہم نہیں جانتے کہ کیسے جیل کی سخت نگرانی کے باوجود ان کو یہ خط لکھنے کی توفیق مل سکی اور وہ خط باہر بھجوانے کی توفیق مل سکی مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھپا ہوا ہمد ردوہاں موجود تھا۔جس