شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 297

شہدائے احمدیت — Page 26

خطبات طاہر بابت شہداء 46 26 خطبه جمعه ۲۳ را بریل ۱۹۹۹ء ایسی بدبختی ہے جب تک صاحبزادہ عبداللطیف شہید کے پیغام کو کابل قبول نہیں کرتا یا افغانستان قبول نہیں کرتا ناممکن ہے کہ کابل کی سرزمین ایک دوسرے پر کئے جانے والے ظلموں سے نجات پاسکے۔ہوتا چلا جائے گا، ہوتا چلا جائے گا۔بسا اوقات آپ لوگ خبریں سنتے ہیں کہ اب صلح ہو گئی، اب صلح ہو گئی شمال و جنوب کے درمیان۔ہمیشہ جب مجھے لوگ کہتے ہیں تو میں ہنس کر کہا کرتا ہوں یارو کر کہنا چاہئے کہتا ہوں کہ سب جھوٹ ہے، تم دیکھ لینا چند دن تک کیا واقعہ ہو جائے گا ، یہی کچھ ہوگا۔حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب شہید کابل ایک اور شہید جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے (۱۹۰۱ء) میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے شاگرد تھے اور ان کا بھی الہام میں ذکر ہے اگر چہ ان کو سید الشہداء تو نہیں کہا گیا مگر سید الشہداء کے شاگر دضرور تھے اور یہ مرتبہ ضرور حاصل تھا کہ الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ میں آپ کا بھی ذکر ہے۔فرمایا، الہام ۱۸۸۴ ء اور ۱۸۹۳ء : شاتان تذبحان و كل من علیها فان یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے گا یعنی ہر ایک کے لئے قضاء وقدر در پیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں“۔( تذکرہ صفحہ ۶۹) اس کے بعد یہ الہام ایک دفعہ پھر بھی ہوا بعد میں لیکن میں نے یہ پہلے دوالہام جو اس واقعہ شہادت سے پہلے کے ہیں وہ سنادیئے ہیں اور بعد کے الہام کا کیا معنی ہے کیوں ہوا۔اس کی تفصیل اللہ بہت جانتا ہے۔اس کے بعد میں یہ کہہ کر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ غلام قادر شہید کے متعلق جو یہ دو فضیلتیں ہیں وہ تو کوئی دنیا میں ان سے چھین ہی نہیں سکتا۔ایک فضیلت یہ کہ آپ کی رگوں سے وہ خون ٹپکا ہے پاکستان کی سرزمین پر جس خون میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اماں جان کا خون شامل ہے اور اس واقعہ نے کربلا کی یاد کو ہمارے لئے تازہ کر دیا اور یہی وجہ تھی کہ میں بار بار کہہ رہا تھا کہ محرم شروع ہو گیا ہے دعائیں کرو اور محمد رسول اللہ اور آپ کی آل پر درود بھیجو۔دوسرا اس وقت مجھے یہ الہام یاد نہیں تھا کہ غلام قادر آیا اور گھر برکتوں اور نور سے بھر گیا۔یہ