شہدائے احمدیت — Page 27
خطبات طاہر بابت شہداء 27 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۹ء بعد میں مجھے توجہ دلائی گئی اور میں حیران رہ گیا کہ واقعہ جس کے ساتھ مجھے محبت تھی کیوں نہ ہوتی کہ اللہ کو اس سے محبت تھی اور مسیح موعود کو یہ پیش گوئی کے طور پر بتادیا تھا کہ تیرے گھر میں تیری اولاد میں ایسا شخص پیدا ہوگا، نوجوان جو اپنے گھر کو جس گھر میں پیدا ہوگا برکت اور نور سے بھر دے گا۔تو اللہ کا احسان ہے کہ ہم اگر چہ بظاہر روتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ساتھ استغفار کی بھی بہت توفیق ملاتی ہے کہ روکس بات پر رہے ہو اتنا بڑا اعزاز، ایک انسان بے اختیار ہو جاتا ہے۔چنانچہ وہ رات جو مجھ پر گزری وہ ان دو باتوں کی کشمکش میں گزری ہے۔تقریب رات بھر میں سو نہیں سکا کہ اچانک غم قبضہ کرتا تھا اور پھر استغفار شروع ہو جاتا تھا۔تو بلاشبہ ساری رات کروٹوں میں کٹی ہے انہی دو باتوں میں اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ بار بار استغفار کی طرف توجہ دلاتا رہا کیونکہ ایسے شہادت کے اوپر زیادہ نم کرنا خدا کو پسند نہیں اور مجھ سے جو بشری غلطی ہوتی رہی ہے اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کی اصلاح بھی فرما دی اور بار بار مجھے استغفار کی طرف توجہ دلائی۔پس اب اس ذکر کے بعد خطبہ کوختم کرتا ہوں۔جہاں تک مجھے یاد ہے با تیں جو بعض غلط کہی گئیں ان کی تصحیح میں نے کر دی ہے اور شہید کا مقام بھی آپ پر کھول دیا ہے۔بلا شبہ یہ میرے دور کی شہیدوں میں ایک استثنائی شان تو رکھتا ہے جس میں اور کوئی شامل نہیں مگر جس طرح درد اور تکلیف دوسرے بعض شہداء کو دی گئی ہے ہوسکتا ہے ویسا درد اور ویسی تکلیف ان کو اپنے آخری لمحوں میں نہ پہنچائی گئی ہو۔مگر یہ باتیں انشاء اللہ میں بعد میں کروں گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کے شہیدوں کی اور بعد میں اپنے دور میں جو شہادتیں ہوئی ہیں ان کا بھی انشاء اللہ تعالیٰ میں تفصیلی ذکر کروں گا۔تو یہ ذکر یار چلتا رہے گا جہاں تک بھی توفیق ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ ان یاروں کا ذکر چلتا رہے گا، ہمارے دلوں کی محفلیں تازہ ہوتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان یادوں کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔