شہدائے احمدیت — Page 266
ضمیمہ 248 شہداء بعد از خطبات شہداء مکرم چوہدری نور احمد صاحب ریٹائر ڈ پٹواری تھے۔۱۹۳۳ء میں اور اضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔۱۹۶۰ء میں نقل مکانی کر کے سدو والہ نیواں آگئے۔یہاں ۱۹۸۶ء میں با قاعدہ جماعت کا قیام ہوا اور محترم چوہدری صاحب آغاز سے تادم آخر اس جماعت کے صدر تھے۔سالہا سال تک نائب ناظم انصار اللہ ضلع نارووال بھی رہے۔آپ پر جوش داعی الی اللہ نیز شرافت اور ایمانداری میں علاقے میں ممتاز تھے۔آپ کے چھوٹے بیٹے طاہر احمد صاحب بھی اس واقعہ میں شہید ہوئے وہ مخلص احمدی خادم تھے اور ابھی غیر شادی شدہ تھے۔چوہدری نور احمد صاحب نے بیوہ کے علاوہ ۵ بیٹے اور ایک بیٹی یادگار چھوڑی:- مکرم ممتاز احمد بھٹی صاحب ، مکرم جاوید احمد بھٹی صاحب (اس واقعہ میں زخمی ہوئے )، مکرم منور احمد بھٹی صاحب، مکرم مبشر احمد بھٹی صاحب، مکرم مظفر احمد بھٹی صاحب کا رکن حفاظت خاص ر بوه ، مکرمه شگفتہ بیگم صاحب اہلیہ مکرم مبشر احمد صاحب جبکہ ایک بیٹے طاہر احمد صاحب اس واقعہ میں شہید ہو گئے۔مکرم نعیم احمد نسیم صاحب آف گولیکی گجرات ( تاریخ شہادت ۷ ارا کتوبر ۲۰۰۱ء) مکرم نعیم احمد نسیم صاحب ولد مکرم چوہدری محمد شفیع صاحب آف گولیکی ضلع گجرات کو محمد ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱ بعمر ۲۶ سال شہید کر دیا گیا۔مرحوم ایک احمدی مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب نمبردار گولیکی ضلع گجرات کے گھر اور زمینوں کا خیال رکھتے تھے جن کی گاؤں میں دشمنی چلی آرہی تھی اور مخالفین احمدیت کا خاص نشانہ تھے۔بعد میں مخالفین نے مسجد بھی سیل کروادی اور عید گاہ و قبرستان کے جھگڑے شروع کر دیئے۔وقوعہ سے دو دن قبل نعیم احمد صاحب ربوہ سے اکیلے گاؤں گئے کہ مخالفین کے ہتھے چڑھ گئے۔انہیں قتل کر کے مخالف نے نعش کو چوہدری مشتاق احمد صاحب کے ڈیرہ پر ایک کھرلی میں پھینک دیا۔محترم امیر صاحب ضلع گجرات کا لکھنا ہے کہ مقتول کی کسی سے دشمنی نہ تھی اور مخلص گھرانے سے تعلق تھا۔گولیکی میں جاری مذہبی منافرت کی آڑ میں مخالفین نے انہیں شہید کر دیا ہے۔انہیں ۷اراکتو بر کو گولیکی میں دفن کیا گیا۔آپ ۲۰ رمئی ۱۹۷۵ کو پیدا ہوئے ، میٹرک پاس اور ابھی غیر شادی شدہ تھے۔آپ