شہدائے احمدیت — Page 259
ضمیمہ 243 شہداء بعد از خطبات شہداء مکرم ماسٹر ناصر احمد صاحب امیر جماعت تخت ہزارہ مکرم ماسٹر ناصر احمد صاحب کی عمر ۳۸ سال تھی اور قریبی گاؤں ادھیاں شریف کے مڈل سکول میں ٹیچر تھے۔گذشتہ چار سال سے امیر جماعت اور اس کے ساتھ سیکرٹری مال بھی تھے۔جماعت کے کاموں میں پیش پیش اور تہجد گزار تھے۔نوجوانی میں ہی شب بیدار تھے۔شہادت کے روز جمعہ بھی پڑھایا۔دلیر اور شریف النفس وجود تھے آپ نے خطبہ میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر قربانی کا وقت آیا تو سب سے پہلے میں قربانی دونگا۔جب مشتعل ہجوم حملہ آور ہوا تو ماسٹر ناصر احمد صاحب مسجد کی چھت پر چڑھ کر پہرہ دے رہے تھے کہ بیت الذکر کی عقبی سمت سے کوئی حملہ نہ کرے۔ایک مکان سے غیر از جماعت عورتوں نے ان کو کہا بھاگ جاؤ اور اپنی جان بچاؤ وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے تو ماسٹر صاحب نے کمال جرات اور بہادری اور بے خوفی سے کہا میں ہر گز یہاں سے نہیں جاؤں گا آج ہی تو قربانی کا وقت ہے۔آپ شادی شدہ تھے پس ماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو کمسن واقفین نو بچے یادگار چھوڑے۔بڑی بیٹی عطیہ ابھی عمر چھ سال، اس بچی نے ساڑھے تین سال کی عمر میں قرآن کریم ختم کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔بیٹا معروف احمد عمر چار سال۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کا خود کفیل اور حامی و ناصر ہو اور شہید مرحوم کے درجات بلند کرے۔مکرم نذیر احمد صاحب رائے پوری اس سانحہ میں باپ اور بیٹا راہ مولیٰ میں قربان ہوئے یعنی نذیر احمد صاحب رائے پوری اور آپ کے بیٹے عارف محمود صاحب۔محترم نذیر احمد صاحب ۶۵ سال کی عمر کے تھے اور آپ زمینداره کا کام کرتے۔آپ کا دل ہر وقت مسجد میں ہی اٹکا رہتا تھا۔شہادت کے روز نماز مغرب مسجد میں پڑھی پھر حضور کا خطبہ سنا پھر عشاء کی نماز ادا کی اور اس کے بعد بھی گھر جانے کی بجائے مسجد میں ہی رہے۔دعوت الی اللہ کے شوقین اور بلند حو صلے اور بچوں پر شفقت کرنے والے تھے۔سلسلہ کے ساتھ محبت تھی۔آپ کے چار بیٹے ہیں: افضال محمود صاحب، طارق محمود صاحب، عارف محمود صاحب شہید، طاہر محمود صاحب۔آپ کی بیوہ محترمہ صدیقہ بی بی صاحبہ نے صبر اور حوصلہ سے اس صدمہ کو برداشت کیا۔اللہ تعالیٰ پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو اور شہید کو اعلی علیین میں جگہ دے۔