شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 297

شہدائے احمدیت — Page 255

ضمیمہ 239 شہداء بعد از خطبات شہداء ہو گئے۔واقعات کے مطابق چک بہوڑو میں چند روز سے احمدیوں اور غیر از جماعت میں کشیدگی چل رہی تھی۔احمدیوں کی طرف سے صلح کی کوششیں کی گئیں اور مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب اٹھوال بھی صلح کروانے کے لئے پہنچ گئے کہ مخالفین نے فائرنگ کر دی جس سے آپ شہید ہو گئے۔مسلسل اڑھائی گھنٹے فائرنگ ہوتی رہی اور نعش اٹھانی مشکل ہوگئی بعد میں چند مستورات نے انکی نعش اٹھائی۔فائرنگ سے چارا حمدی زخمی ہوئے۔مورخہ 9 جون ۲۰۰۰ء کو چک بہوڑو میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور احمد یہ قبرستان چک بہوڑ و میں تدفین عمل میں آئی۔آپ ایک مخلص احمدی تھے اور بوقت شہادت بھی صلح کروانے کیلئے گھر سے نکلے۔آپ نے بیوہ مکرمہ خورشید بی بی صاحبہ کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑ ہیں۔بیٹوں کے اسماء یہ ہیں: مکرم عبدالرزاق صاحب جرمنی ، مکرم محمد نواز صاحب بیجنیم ، مکرم چوہدری اعجاز احمد صاحب جو فیصل آباد میں کاروبار کرتے ہیں اور مکرم طاہر احمد صاحب جرمنی ہیں۔آپکی دو بیٹیاں مکرمہ زبیدہ ثاقب صاحبہ اہلیہ غلام سرور ثاقب صاحب اسلام آباد اور مکرمہ فریده بانو صاحبہ اہلیہ محمد عادل صاحب جرمنی ہیں۔شہدائے مسجد گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ تاریخ شہادت ۳۰ اکتوبر ۲۰۰۰ء) گھٹیالیاں خورد ضلع سیالکوٹ کے شرقی جانب واقع احمدیہ مسجد میں مورخہ ۳۰ را کتوبر ۲۰۰۰ء کو بوقت فجر جب لوگ ادا ئیگی نماز اور درس قرآن سننے کے بعد باہر نکلنے لگے تو بعض نا معلوم نقاب پوش دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔جس کے نتیجہ میں ۵ احباب راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے اور ۶ نمازی زخمی ہوئے۔اس سانحہ کے شہداء کی نماز جنازہ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو گورنمنٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں کی گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں احباب شامل ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفہ اسیح الخامس) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے جنازہ پڑھایا اور احمد یہ قبرستان گھٹیالیاں میں تدفین مکمل ہونے کے بعد دعا کروائی۔مرکزی وفد کے بعض اراکین جنازه و تدفین میں شرکت کے بعد لاہور گئے اور میوہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔اس