شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 297

شہدائے احمدیت — Page 232

خطبات طاہر بابت شہداء 221 عزیزم محمد جبری اللہ مظفر کینیا خطبہ جمعہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۹۹ء عزیزم محمد جری اللہ مظفر۔کینیا۔تاریخ وفات ۲۱ / جون ۱۹۹۸ء عزیز جری الله ۱۸ رمئی ۱۹۹۳ء کو مکرم مظفر احمد صاحب درانی امیر و مشنری انچارج تنزانیہ کے ہاں ربوہ میں پیدا ہوئے۔عزیز کے والد جب کینیا میں تھے تو انہوں نے ایک پہاڑی پر اپنی ایک بیٹی کی آمین منعقد کرنے کا پروگرام بنایا جس کے ساتھ ہی ایک برساتی نالہ بہتا تھا۔وہاں کھیل کود میں مشغول تھے کہ پاؤں پھسلنے کے نتیجہ میں عزیز جری اللہ مظفر برساتی نالے میں گرا اور تیز پانی کی لپیٹ میں آکر نظروں سے غائب ہوگیا۔انالله وانا اليه راجعون۔چونکہ واقف زندگی کا بیٹا وقف کے دوران وطن سے دور ڈوب کر غرق ہوا اس لئے ڈوب کر غرق ہونے والے کو ویسے ہی آنحضرت ﷺ نے شہید قرار دیا ہے تو یہ شہادت اس رنگ میں ایک دوہری شہادت تھی۔ایک ہفتہ کی مسلسل تلاش کے بعد آٹھویں روز اس کی لاش مل گئی۔۲۹ / جون ۱۹۹۸ء کو احمدیہ مسجد کسومو کینیا میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور نیروبی میں احمد یہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔مکرم محمد ایوب اعظم صاحب واہ کینٹ محمد ایوب اعظم صاحب شہید، واہ کینٹ۔تاریخ شہادت ۷/ جولائی ۱۹۹۸ء۔آپ محترم شیخ نیاز الدین صاحب (مرحوم) اور محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ (مرحومہ ) کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کے نانا حضرت شیخ عمر الدین صاحب ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔والد بعد میں خلافت ثانیہ کے دوران احمدی ہوئے۔آپ کی شادی محترمہ بشری منہاس صاحبہ بنت مکرم محمد افضل منہاس صاحب ایڈووکیٹ مرحوم (راولپنڈی) کے ساتھ ہوئی۔آپ ایک مخلص احمدی تھے۔B۔SC کرنے کے بعد آرڈینینس فیکٹری واہ کینٹ میں بطور چارج مین ملازم ہوئے اور ترقی کر کے فورمین کے عہدہ تک پہنچے۔بعد ازاں اسٹنٹ ورکس مینجر مقرر ہوئے لیکن پھر نا معلوم وجوہات کی بناء پر 1991ء میں آپ ریٹائر کر دیا گیا۔نامعلوم سے مراد یہ ہے کہ پتہ ہے جماعت کی دشمنی میں کیا گیا تھا مگر حکومتی ریکارڈ کے مطابق وجوہات نا معلوم ہیں۔اس کے بعد آپ بسلسلہ ملازمت سعودی عرب چلے گئے۔۱۹۹۵ء میں واپس آکر پھر شہادت تک واہ کینٹ میں ہی رہے۔واقعہ شہادت: ۷ جولائی ۱۹۹۸ء تقریباً ساڑھے آٹھ بجے رات آپ گھر سے نکلے اور محلہ