شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 297

شہدائے احمدیت — Page 224

خطبات طاہر بابت شہداء 213 خطبہ جمعہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۹۹ء ہو۔مکرم انور حسین صاحب ابڑو اور ان کے بیٹے ظہور پر تشدد کرتے رہے اور کہتے رہے کہ تم اپنے مرشد کو گالیاں دو جس پر انہوں نے انکار کیا تو شہید کی گردن کے ساتھ بندوق کی نالی لگا کر کہا کہ گالیاں دوور نہ تمہیں ماریں گے۔شہید مرحوم اگر چہ طبعی طور پر کمزور تھے مگر آدھ گھنٹے تک ان درندوں کے سامنے عظیم الشان استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور کسی ایک لمحہ کے لئے بھی ایمان نہ ڈگمگایا۔اس عرصہ میں ان کی خواتین نے بھی بڑی بہادری کا ثبوت دیا۔کسی عورت نے ان کی منتیں نہیں کیں ، واسطہ نہیں ڈالا اور سندھی دستور کے مطابق قدموں میں دوپٹہ نہیں ڈالا۔اس کے بعد یہ غنڈے انہیں مارتے ہوئے باہر لے گئے اور گاؤں کے لوگوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ آج اسلام اور قادیانیت کا مقابلہ ہے۔دیکھو ہم انہیں کیسے مارتے ہیں اور چاروں کو گاؤں کے باہر کنویں پر لے آئے۔پھر ناصر احمد ابڑو کو کہا کہ تم ایک طرف ہو جاؤ۔اس کے بعد مکرم ظہور احمد ابڑو ابن انور حسین صاحب ابڑو پر فائر کیا جو کہ نہر کے کنارے پر کھڑے ہوئے تھے۔فائر لگتے ہوئے وہ پھسلے اور نہر میں گر گئے۔ایک گولی ان کے دائیں کندھے میں لگ کر بائیں طرف سوراخ کرتی ہوئی نکل گئی۔اس کے بعد مکرم انور حسین صاحب ابڑو پر گولیاں برسائیں۔ایک گولی ان کے سر پر لگی۔شرپسندوں کے بھاگ جانے کے بعد فور دونوں باپ بیٹوں کو ایک ٹیکسی میں وارہ لے جایا گیا مگر مکرم انور حسین صاحب نے راستہ ہی میں دم تو ڑ دیا۔انالله وانا اليه راجعون۔ان کا بیٹا ظہور احمد بچ گیا جو آج کل اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آسٹریلیا میں آباد ہے۔مرحوم نے چار بیٹیاں اور پانچ بیٹے پسماندگان میں چھوڑے۔ظہور احمد کے علاوہ باقی بچے اللہ کے فضل سے اپنی زمینوں پر آباد ہیں اور مخالفین کی خطرناک سازشوں کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔مکرم چودھری ریاض احمد صاحب شب قدر مردان شہادت چودھری ریاض احمد صاحب شہید ، شب قدر ( مردان ) ۱۹ / اپریل ۱۹۹۵ء۔مکرم چودھری ریاض صاحب جولائی ۱۹۴۷ء میں ضلع لدھیانہ کی تحصیل جگر اؤں کے ایک گاؤں ملبہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد چودھری کمال الدین صاحب خود احمدی ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد مردان میں رہائش اختیار کی۔چودھری ریاض احمد نے مردان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں کاروبار شروع کیا۔آپ نے بسلسلہ روزگار قریباً چھ سال ابوظہبی میں بھی قیام کیا جہاں سے آپ کو