شہدائے احمدیت — Page 222
خطبات طاہر بابت شہداء 211 مکرم دلشاد حسین کبھی صاحب لاڑکانہ خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۹ء دلشاد حسین کچھی صاحب شہید، لاڑکانہ (سندھ)۔تاریخ شہادت ۳۱ راکتو بر ۱۹۹۴ء۔آپ مکرم زوار محمد جمن کچھی صاحب کے صاحبزادے تھے۔بیعت کی توفیق اگر چہ جولائی ۱۹۹۳ء میں ملی۔قبول احمدیت سے قبل آپ کر شیعہ تھے اور آپ کے والد اور چا شہر کے ایک بہت بڑے امام باڑہ کے متولی تھے۔آپ نمازوں کی ادائیگی میں بہت با قاعدہ تھے۔ڈش انٹینا اپنے گھر میں لگوایا جہاں غیر از جماعت احباب کو لاتے اور ان کو جماعت کے پروگرام دکھاتے تھے۔مساجد اور امام باڑوں کے مولوی ان کے پاس آتے اور ان کو مرتد کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر بری طرح ناکام رہے اس دوران اندر ہی اندر آپ کے خلاف سازشیں پلتی رہیں۔یہاں تک کہ ۳۱ اکتو بر ۱۹۹۴ء کو جبکہ آپ اپنی دوکان سے واپس گھر آرہے تھے آپ کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔اپنے پیچھے بیوہ کے علاوہ ایک بچی چھوڑی۔مرم سلیم احمد صاحب پال کراچی سلیم احمد صاحب پال شہید کراچی۔آپ مکرم خدا بخش صاحب پال اور محتر مہ سلیمہ بی بی صاحبہ کے ہاں ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔بعد ازاں پہلے ربوہ میں اور پھر کراچی منتقل ہو گئے۔بوقت شہادت کراچی ہی میں آباد تھے۔واقعہ شہادت : منظور کالونی کراچی میں شہید ہونے والوں عبدالرحمان باجوہ صاحب کے بعد آپ کا دوسرا نمبر ہے۔باجوہ صاحب کی شہادت کے چودہ دن بعد ارنومبر ۱۹۹۴ء کو محترم سلیم احمد صاحب پال جب رات کو اپنی دکان بند کر کے گھر کی طرف جارہے تھے تو دکان سے تین گلیاں آگے دو موٹرسائیکل سواروں نے آپ پر اندھا دھند فائرنگ کر کے آپ کو موقع پر ہی شہید کر دیا۔اناللہ وانا اليه راجعون شہید مرحوم نے اہلیہ محترمہ رفعیہ بیگم صاحبہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں۔بڑے بیٹے وسیم احمد پال کے علاوہ سب بچے ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ان کے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کے جو نام معلوم ہو سکے ہیں وہ یہ ہیں۔تنویر احمد پال، ندیم احمد پال، کلیم احمد پال نسیم احمد پال ، شمائلہ تسنیم، ثوبیہ نورین گلشن نورین۔