شہدائے احمدیت — Page 220
خطبات طاہر بابت شہداء 209 مکرم ملک محمد دین صاحب شہید ساہیوال خطبہ جمعہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۹۹ء ملک محمد دین صاحب شہید ساہیوال۔وفات نومبر ۱۹۹۱ء محترم ملک محمد دین صاحب فیض اللہ چک کے ایک نواحی گاؤں کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام فقیر علی تھا۔تقسیم ہند کے بعد آپ کا خاندان ساہیوال شہر میں آباد ہوا۔آپ ۱۹۴۰ء کے لگ بھگ پولیس میں بھرتی ہوئے اور ۱۹۷۶ء کو انسپکٹر پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔اکتوبر ۱۹۸۴ء میں سانحہ ساہیوال مسجد کے بعد جن گیارہ بے گناہ افراد کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا ان میں سے ایک آپ بھی تھے۔آپ کو رات کے وقت دھوکہ کے ساتھ آپ کے گھر سے پولیس نے اس حال میں گرفتار کیا کہ آپ کو جوتا تک پہننے کی مہلت نہ دی اور اس کے بعد سات سال تک آپ ساہیوال اور ملتان کی جیلوں میں اسیر راہ مولا رہے۔دوران اسیری پیرانہ سال میں آپ نے طرح طرح کی صعوبتیں بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایمانی کے ساتھ برداشت کیں۔آپ کو ۱۹۸۵ء میں جب ایک فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی چیس سالہ قید کی سزا سنائی گئی تو آپ نے بے اختیار کہا پچھتر سال تو میری عمر ہو چکی ہے اب پچپیس سال مزید کہاں میں قید و بند میں رہوں گا۔آخر نومبر ۱۹۹۱ء میں سات سال قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے جیل ہی میں نے آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپر د کر کے شہادت کا عظیم مرتبہ پالیا۔انالله وانا اليه راجعون۔مرحوم نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔آپ کے سب بچے شادی شدہ اور صاحب اولا د اور خوش ہیں۔عزیزه فیضیه مهدی صاحبہ عزیزه فیضیه مهدی صاحبہ - تاریخ وفات ۲۱ اکتو بر۱۹۹۳ء، مکرمه عزیزه فیضیه مهدی صاحبہ، چوہدری عبدالعزیز صاحب بھا میری اور محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ کی صاحبزادی اور نسیم مہدی صاحب واقف زندگی کی اہلیہ تھیں۔ان کا وصال وطن سے دوران ایام میں ہوا جب آپ بڑے خلوص کے ساتھ اپنے واقف زندگی خاوند کی طرح وقف کے جذبے سے سرشار ٹورانٹو میں ہمہ وقت خدمت دین میں مگن رہتی تھیں۔۱۹۹۳ء میں پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ آپ اپنے خاوند کو پریشانی سے بچانے کے لئے اپنی سر کی ایک بہت خطرناک تکلیف کو مسلسل چھپا رہی تھیں مگر جب مزید دبانا ناممکن نہ رہا تو ڈاکٹری