شہدائے احمدیت — Page 219
خطبات طاہر بابت شہداء 208 مکرم قاضی بشیر احمد صاحب کھوکھر شیخوپورہ بشیر خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۹ء سب سے پہلے قاضی بشیر احمد صاحب کھوکھر ایڈووکیٹ شیخو پورہ کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں جو ۷ا / جولائی ۱۹۹۰ء کو ہوئی۔قاضی بشیر احمد صاحب یکم ستمبر ۱۹۳۰ء کو قاضی کلیم احمد صاحب آف شیخو پورہ کے ہاں پیدا ہوئے۔۱۹۷۴ء میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا اور پنجاب بار کونسل کے ممبر بن گئے۔آپ بڑے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔تنگدستی کے باوجود وصیت کے چندہ کی ادائیگی اور جماعتی ذمہ داریاں خوب نبھاتے تھے۔۱۹۷۴ء میں مسجد ہنجراں والا کے خطیب اللہ دتہ اور دوسرے مولویوں نے ایک احمدی خاتون کی تدفین کے وقت بہت شور مچایا کہ ایک کافرہ عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔مفسدین کی اسی ہنگامہ آرائی کے دوران آپ کسی کام سے گھر سے باہر نکلے تو انہوں نے آپ کو گھیر لیا اور شدید زدو کوب کرنے کے بعد آپ کو ایک تندور میں پھینک دیا۔مگر عورتوں کے شور مچانے پر کچھ آدمیوں نے آپ کو تندور سے باہر نکال لیا اور آپ اعجازی طور پر بچ گئے بلکہ جولائی ۱۹۸۸ء کے جلسہ سالانہ لندن میں شمولیت کی توفیق پائی۔مولویوں کی شرارتیں جاری رہیں۔۲۰ /اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ایک بیرنگ خط میں آپ کو احمدیت نہ چھوڑنے کی صورت میں چک سکندر کا حوالہ دے کر قتل کی دھمکی دی گئی۔اس خط کے وصول ہونے کے تین ماہ بعد ایک دن شہید مرحوم کچہری بند ہونے کے بعد اپنی سائیکل پر گھر آرہے تھے کہ کمپنی باغ شیخوپورہ میں داخل ہوتے ہی موٹر سائیکل پر سوار دو اشخاص نے آپ پر چاقوؤں کے متعد دوار کئے اور فرار ہو گئے اور آپ کسی علاج سے پہلے ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے اور شہادت کا رتبہ پالیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ساٹھ سال تھی اور آپ بطور سیکرٹری جائیداد شیخو پورہ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔پسماندگان میں آپ نے بیوہ کے علاوہ ایک لڑکا اور چار لڑکیاں یادگار چھوڑیں جو سب کے سب آج کل جرمنی میں آباد ہیں۔بیٹا نعیم احمد کھوکھر شادی شدہ اور صاحب اولاد ہے۔بیٹی غزالہ بشیر قاضی عبدالمتین صاحب ایڈووکیٹ حال جرمنی کی بیگم ہیں۔بیٹی مبارکہ فرحت حمید عباسی کی بیگم ہیں۔ریحانہ زبیر احمد صاحب سے بیاہی ہوئی ہیں۔فریدہ بھی شادی شدہ ہیں اور اپنے خاوند ممتاز احمد کے ساتھ جرمنی میں رہتی ہیں۔گویا کہ تمام پسماندگان خدا تعالیٰ کے فضل وکرم کے ساتھ دینی اور دنیاوی نعمتوں سے متمتع ہیں۔