شہدائے احمدیت — Page 215
خطبات طاہر بابت شہداء 204 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء کر گئے۔اگلے دن شام کے وقت آپ کی شہادت کا علم ہوا۔ے فروری کو ربوہ میں عام قبرستان میں تدفین ہوئی۔آپ غیر شادی شدہ تھے۔یہ سمجھ نہیں آئی کہ موصی تھے تو عام قبرستان میں کیوں تدفین ہوئی۔یہ معلوم کرنا چاہئے نظام وصیت سے۔اس وقت تو مجبوری ہوگی پولیس کی کہ بعض دفعہ نعش کو دیکھنے کے لئے دوبارہ نکالا جاتا ہے مگر بعد میں تو ان کی نعش ، ان کے تابوت کو بہشتی مقبرے میں منتقل کر دینا چاہئے۔وسیم احمد بٹ صاحب اور حفیظ احمد بٹ صاحب فیصل آباد وسیم احمد بٹ صاحب شہید سمن آباد ضلع فیصل آباداور حفیظ احمد بٹ صاحب شہید فیصل آباد۔تاریخ شهادت ۳۰ را گست ۱۹۹۴ء مکرم وسیم احمد صاحب بٹ ۱۹۶۹ء میں مکرم محمد رمضان بٹ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے اور مڈل تک تعلیم حاصل کی اور پھر پاور لومز کا کام کرنے لگے۔جماعت سے بہت لگاؤ رکھتے تھے اور دعوت الی اللہ میں خوب حصہ لیتے تھے۔نماز با قاعدگی سے ادا کرتے تھے اور چندہ میں بھی بہت با قاعدہ تھے۔غریب پرور تھے۔واقعہ شہادت: ۳۰ راگست ۱۹۹۴ء کو ایک شخص مشتاق اور اس کے ساتھی حملہ آوروں نے آپ پر اور آپ کے بھائیوں پر رائفلوں سے گولیاں برسائیں۔جن میں سے ایک گولی آپ کے دل پر اور دوسری بائیں ٹانگ پر لگی اور آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انـا لــلــه وانـا اليه راجعون۔بوقت شہادت آپ کی عمر 25 سال تھی اور غیر شادی شدہ تھے۔اس حملہ میں آپ کے بڑے بھائی محمد امین بٹ اور دو چچازاد بھائی حفیظ احمد صاحب بٹ اور اختر کریم صاحب بٹ بھی شدید زخمی ہوئے جن میں سے حفیظ بٹ صاحب ابن اللہ رکھا بٹ صاحب نے الائیڈ ہسپتال پہنچ کر دم تو ڑ دیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔دونوں کی تدفین ۳۱ /اگست ۱۹۹۴ء کور بوہ کے قبرستان عام میں ہوئی۔حفیظ بٹ شہید ایک ہمدرد، ملنسار اور مخلص احمدی تھے اور دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتے تھے۔نماز با جماعت کے علاوہ تہجد بھی ادا کیا کرتے تھے اور چندہ جات میں بہت با قاعدہ تھے۔بوقت شہادت عمر اٹھارہ سال تھی اور غیر شادی شدہ تھے۔پسماندگان میں آپ کے والدین ، چھ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔چار بھائیوں اور تین بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور دو بھائی ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔