شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 297

شہدائے احمدیت — Page 214

خطبات طاہر بابت شہداء 203 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت چودھری غلام قادر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آف لنگیری ضلع جالندھر کا داماد بننے کا شرف نصیب ہوا۔واقعہ شہادت :۲ فروری ۱۹۹۴ء کی سہ پہر تین بجے دس معاندین احمدیت نے شہید مرحوم کے والد مکرم را نا عبدالستار صاحب جو ایک پر جوش داعی الی اللہ تھے پر حملہ کیا ور زدوکوب کرنے کے بعد انہیں اغواء کرنے کی کوشش کی۔اسی اثناء میں رانا ریاض احمد صاحب گھر سے باہر آئے اور والد صاحب کو بچانے کی کوشش کی تو ایک بد بخت نے بالکل قریب سے ان پر فائر کیا جو پیشانی پر لگا اور آپ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑے۔دو دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ۵ فروری ۱۹۹۴ء کو اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔اور موت پر ہمیشہ کی زندگی فتح یاب ہوئی۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۳۹ سال تھی۔آپ کی شہادت کے صرف چار ماہ بعد آپ کی اہلیہ بھی وفات پاگئیں۔انا لله وانا اليه راجعون۔تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں خدا کے فضل سے بقید حیات ہیں اور زیرتعلیم ہیں۔دو بیٹے وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔شہید مرحوم اپنے بھائیوں اور بہنوں میں سب سے بڑے تھے۔ان کے پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ایک بھائی رانا ارسال احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں اور ان دنوں جامعہ میں بطور استاد خدمت کی توفیق پارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت قابل انسان ہیں۔مکرم احمد نصر اللہ صاحب لاہور احمد نصر اللہ صاحب شہید ، لاہور۔تاریخ شہادت ۵ فروری ۱۹۹۴ء۔آپ مکرم ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب ساکن آسٹریلیا کے صاحبزادے اور حضرت چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نواسے تھے۔آپ اپنی والدہ مکرمہ امتہ ائی صاحبہ اہلیہ چودھری حمید نصر اللہ صاحب امیر ضلع لاہور کے پاس لاہور میں رہتے تھے۔آپ انتہائی نیک نفس ، سادہ اور پر وقار طبیعت کے مالک تھے۔بچپن سے ہی تہجد گزار تھے۔خدا کے فضل سے موصی بھی تھے اور ہر مالی قربانی میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔۵ فروری ۱۹۹۴ء کو آپ اپنی رہائش گاہ پر آرام کر رہے تھے کہ بعض نامعلوم حملہ آوروں نے کمرہ میں گھس کر آپ کر سر پر آہنی سر یہ مار مار کر آپ کو شہید کر دیا اور جاتی دفعہ دروازہ کو باہر سے مقفل