شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 297

شہدائے احمدیت — Page 213

خطبات طاہر بابت شہداء 202 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء رستہ ہی میں آپ شہید ہو گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ نے پسماندگان میں بیوہ مکرمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔بڑی بیٹی فرح نصیر صاحبہ سمبڑیال میں بیاہی ہوئی ہیں۔دوسری بیٹی انیقہ چودھری صاحبہ ہومیو پیتھی کے کورس میں پورے ملک میں اول رہیں۔ان کا نکاح ٹورانٹو کے صفدر حسین واجد سے ہو چکا ہے لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔تینوں بیٹے احسان الحق علوی، انعام الحق علوی اور انوار الحق علوی ابھی زیر تعلیم ہیں۔در مکرم محمد اشرف صاحب شہید جلہن ضلع گوجرانوالہ محمد اشرف صاحب شہید، جلہن ضلع گوجرانوالہ۔یوم شہادت ۱۶ دسمبر ۱۹۹۲ء۔محمد اشرف صاحب آف جلهن ضلع گوجرانوالہ ۱۹۸۴ء میں خود احمدی ہوئے اور بہت جلد ترقی کی۔مجھے لکھا کرتے تھے کہ میں تو ہر وقت جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہوں سوائے بیوی بچوں کے کوئی میرا نہیں۔ان پر ۶ اردسمبر ۱۹۹۲ء کی رات کو حملہ کیا گیا۔حملہ آوروں نے دھوکہ سے ان کا اعتماد حاصل کیا۔رات ان کے پاس ٹھہرے۔کھانا کھایا اور پھر سوتے میں ان کے سر اور چہرے پر پستول سے فائر کر کے شہید کر دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔ان کی اہلیہ نے اپنے بیٹے کو ساتھ کے گاؤں اطلاع دینے کے لئے بھجوایا تو سب خبر سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے مگر خدا کی راہ میں جان دینے والے اس دوست کے بیٹے نے ان کو تسلیاں دیں کہ میرا باپ نیک انجام کو پہنچا ہے۔میری والدہ بھی خوش ہیں اور راضی ہیں۔شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور چھ بیٹے چھوڑے جو سب ابھی زیر تعلیم ہیں۔بچوں کے اسماء یہ ہیں :۔اشتیاق احمد صاحب۔اعجاز احمد صاحب۔افتخار احمد صاحب۔شہزاداحمد صاحب۔طاہر احمد صاحب۔خرم شہزاد صاحب۔صالحہ اشرف صاحبہ اور سعیدہ اشرف صاحبہ۔مکرم را نا ریاض احمد صاحب لاہور رانا ریاض احمد صاحب شہید، لاہور۔تاریخ شہادت ۵ فروری ۱۹۹۴ء۔آپ ۱۵ / مارچ ۱۹۵۴ء کو مکرم را نا عبدالستار صاحب کے ہاں ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں E۔B-285 میں پیدا ہوئے۔میٹرک کرنے کے بعد بلڈنگ میٹریل کا کاروبار شروع کیا۔آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود