شہدائے احمدیت — Page 205
خطبات طاہر بابت شہداء 196 خطبہ جمعہ ۹ر جولائی ۱۹۹۹ء راجعون - ورثا : شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا پسماندگان میں چھوڑے۔بیٹا مرحوم کی شہادت سے چھ ماہ بعد پیدا ہوا۔سب بچے ابھی زیر تعلیم ہیں۔نادیہ ظہیر، راشدہ ظہیر، بشری ظہیر ، احسن ظہیر اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔شہید مرحوم کی بیوہ نے ان کے بڑے بھائی سے بعد میں شادی کر لی تھی۔مکرم ڈاکٹر منوراحمد صاحب سکرنڈ ڈاکٹر منور احمد صاحب شہید، سکرنڈ : تاریخ شہادت ۱۴ مئی ۱۹۸۹ء۔ڈاکٹر منوراحمد صاحب کے والد چودھری بشیر احمد صاحب اٹھوال تحصیل وضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔ڈاکٹر صاحب کی پیدائش ۱۹۵۷ء میں چک نمبر ۳۱۸ تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہوئی۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا آغاز ڈاکٹر صاحب کے پڑدادا نواب ولد زمیندار کے ذریعہ ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم سکرنڈ ضلع نوابشاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے والد بسلسلہ روزگار مقیم تھے۔میٹرک کے بعد آپ نے طبیہ کالج ربوہ میں داخلہ لیا جہاں سے فاضل الطب والجراحۃ کا امتحان پاس کرنے کے بعد سکرنڈ میں پریکٹس شروع کردی۔۱۹۸۴ء میں آپ کی شادی سکرنڈ کے موجودہ صدر صاحب چودھری فرزند علی صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ڈاکٹر صاحب کی شہادت سے قبل آپ کی اہلیہ نے خواب میں دیکھا کہ میری سونے کی چوڑیوں میں سے ایک چوڑی ٹوٹ کر گر گئی ہے اور ساتھ ہی بہت ہجوم ہے اور عورتیں باری باری میرے گلے لگ کر رو رہی ہیں لیکن میں سمجھ نہ سکی کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔صبح اٹھ کر پریشان رہی ، صدقہ بھی دیا مگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جسم سے جان نکل گئی ہو۔ڈاکٹر صاحب شہید کو خواب سنائی تو کہنے لگے اللہ پر بھروسہ رکھو۔جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آئے گی۔معلوم ہوتا ہے وہ اس خواب کی تعبیر صحیح سمجھ چکے تھے۔بہت بہادر انسان تھے کہا کرتے تھے کہ شہادتیں کسی کسی کو نصیب ہوا کرتی ہیں۔یہ نصیبوں والوں کا حصہ ہے، کاش یہ رتبہ مجھے نصیب ہو۔سکرنڈ کے حالات زیادہ خراب ہوئے تو بیوی سے کہنے لگے کہ ربوہ چلی جاؤ مگر وہ نہ مانی اور کہا کہ آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔شہادت کے دن کلینک میں دو آدمی آئے اور گولیاں برسا کر