شہدائے احمدیت — Page 201
خطبات طاہر بابت شہداء 192 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء پیرو کار تھا، آپ کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا کوئی اسلحہ وغیرہ گھر پر ہے۔والد صاحب نے جواب دیا میری کسی سے کیا دشمنی ہے؟ اس نے کہا کہ سارا علاقہ تمہارا دشمن ہے اس لئے اسلحہ بناؤ۔والد صاحب نے جواب دیا اچھا بنا لیں گے۔غالباوہ بھی ٹوہ لینے کے لئے آیا ہو گا کہ گھر پر ان کے اسلحہ ہے کہ نہیں۔ایک دن ان کے گھر کے باہر شور ہوا تو گھر والے دیکھنے باہر نکلے تو پتہ چلا کہ مولوی امین کے ایک چہیتے شاگر دمنشاء نے انہیں گولی ماردی ہے۔شہید اس وقت خون میں لت پت سڑک پر پڑے تھے۔فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں اگلے روز آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیں۔آپ کے پس ماندگان میں اہلیہ محترمہ مجیدہ بیگم صاحبہ کے علاوہ چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔چاروں بیٹے مرزا اقدس ،بیگ، مرزا مظفر بیگ، مرز وسیم بیگ اور مرزا طاہر بیگ اپنی والدہ کے ساتھ لاہور میں رہتے ہیں۔مرزا اقدس بیگ شادی شدہ ہیں اور باقی تینوں غیر شادی شدہ ہیں۔جبکہ بیٹیوں میں سے نصرت مبارک صاحبہ اہلیہ مبارک احمد خان جرمنی میں مقیم ہیں۔بشریٰ جہانگیر صاحبہ اہلیہ مرزا جهانگیر بیگ صاحب فیصل آباد میں ہیں۔رخسانہ نسیم صاحبہ اہلیہ مرزا نسیم بیگ صاحبہ راولپنڈی میں رہتی ہیں۔چوتھی بیٹی نسرین اہلیہ مرزا محمود احمد صاحب۔ان کے میاں زمیندارہ کرتے ہیں اور پانچویں ارسہ مرزا ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔اور یہ سارے اللہ تعالی کے فضل سے خیر و عافیت سے ہیں۔مکرم سید قمر الحق صاحب سکھر اور راؤ خالد سلیمان صاحب کراچی شہادت سید قمر الحق صاحب شہید ، سکھر اور راؤ خالد سلیمان صاحب شہید کراچی۔یہ کراچی والے دوست بھی سید قمر الحق صاحب کی حفاظت کی غرض سے بھیجے گئے تھے اور اسی دوران وہیں شہید ہو گئے تھے۔خود احمدی ہوئے تھے۔ان کے والد غیر احمدی تھے جو آخر تک غیر احمدی ہی رہے۔آپ یعنی سید قمر الحق صاحب شہید مکرم حکیم سید عبدالہادی صاحب مون گھیری کے بیٹے تھے آپ چند ور ضلع مونگھیر میں پیدا ہوئے۔نو یا دس سال کی عمر میں قادیان آئے اور مڈل تک وہیں تعلیم حاصل کی تقسیم ملک کے بعد ملتان سے میٹرک کیا جس کے بعد چھ سال تک مرکز سلسلہ ربوہ میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ، دفتر وصیت اور دفتر خزانہ میں خدمات سرانجام دیں۔۱۹۵۶ء میں سکھر چلے گئے اور وہیں پرائیویٹ طور پر۔M۔A اور پھر B۔T کر کے گورنمنٹ کامران ہائی سکول میں انگلش ٹیچر لگ گئے اور بوقت شہادت اسی ادارے میں ملازمت کر رہے تھے۔آپ سید شمس الحق صاحب (مرحوم )