شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 297

شہدائے احمدیت — Page 199

خطبات طاہر بابت شہداء 190 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء فروری ۱۹۸۲ء میں پنوں عاقل میں شہید کر دیا گیا۔جب آپ اپنی بھائی کی نعش کو بہشتی مقبرہ میں قبر میں اتار رہے تھے تو پہلے مقبول شہید سے مخاطب ہوئے ہیں پھر اپنے آپ کو مخاطب کیا ہے۔مقبول کو دفن کرتے وقت آپ نے کہا: اے مقبول ! یہ رتبہ خوش نصیبوں کو نصیب ہوتا ہے۔پھر کہا اے محمود! یعنی خود اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہا: کاش مجھے بھی یہ رتبہ حاصل ہو جائے اور تو بھی یہیں پر آئے۔ربوہ سے واپسی پر پنوں عاقل کی پولیس نے آپ سے کہا کہ آپ اپنی زمینیں فروخت کر کے کہیں اور چلے جائیں کیونکہ پہلے آپ کے رشتہ دار بھائی کو شہید کیا جا چکا ہے۔ہم مولویوں کی وجہ سے مجبور ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔اس پر آپ نے انہیں جواب دیا کہ احمدیت کی مخالفت تو ہر جگہ ہے، ہر جگہ دشمن ہیں۔اگر مجھے شہادت ملنی ہے تو یہاں کیوں نہ ملے۔آپ کے دو بیٹے سکول جاتے تو مولویوں کے کہنے پر کچھ لڑکے ان کو تھپڑ مارتے اور گالیاں دیتے۔سکول کے اساتذہ بھی مذہبی مخالفت کی بنا پرپختی کرتے۔اوباشوں کے گروہ ان کے گھروں پر بھی فائرنگ کرتے رہتے۔دشمن رات کو چھپ کران کے کھیتوں کا پانی بند کر دیتے۔پکی ہوئی فصلوں کو آگ لگا دیتے یا کاٹ کر اجاڑتے تا کہ ان پر ذریعہ معاش تنگ ہو جائے اور کسی طرح یہ احمدیت سے تو بہ کر لیں۔آپ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات دروازہ کھٹکا۔جیٹھ کا بیٹا سعید باہر گیا تو دروازہ کے پاس ہی دو آدمی کھڑے تھے۔انہوں نے سعید پر حملہ کر دیا۔ایک نے اس کے منہ اور ناک کو ہاتھوں اور کپڑے سے باندھ دیا اور دوسرے نے اسے مارنا شروع کیا اور گھسیٹتے ہوئے دروازے سے پندرہ گز دور لے گئے۔سعید نے بعد میں بتایا کہ میں نے بہت کوشش کی ان سے آزاد ہو جاؤں لیکن ناکام رہا۔آخر کار جب مارنے والے نے خنجر نکالا اور دوسری طرف سانس بند کر دینے کی وجہ سے میری حالت بگڑی تو میں نے اللہ کو یاد کرتے ہوئے آخری کوشش کی اور منہ آزاد کروانے میں کامیاب ہو گیا۔میں نے والد صاحب کو آوازیں دیں۔چنانچہ وہ اور چا یعنی محمود احمد صاحب شہید موقع پر پہنچ گئے اور ایک آدمی تو بھاگ نکلا لیکن دوسرے کو پکڑ لیا گیا۔مجرم نے پولیس کو بتایا کہ میں گھوٹکی ضلع سکھر کے ایک مدرسہ کا طالب علم ہوں۔مولوی صاحبان نے ہمیں بھیجا تھا کہ اس نوجوان کو قتل کر دیں لیکن اس نوجوان کی قسمت تھی کہ یہ بچ گیا۔سعید آج کل ربوہ میں رہائش پذیر ہیں اور دوکانداری کرتے ہیں۔ملاں ملنے بازار میں مسلسل لوگوں کو بھڑکاتے رہے کہ محمود قادیانی کو قتل کرنا واجب اور