شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 297

شہدائے احمدیت — Page 198

خطبات طاہر بابت شہداء 189 خطبہ جمعہ ۹؍ جولائی ۱۹۹۹ء عہد خلافت رابعہ کے شہداء (خطبہ جمعہ فرموده ۹ جولائی ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ بقرہ کی یہ آیات تلاوت فرمائیں: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ * وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَا ۚ وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة: ۱۵۲ - ۱۵۵) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے مدد طلب کرتے رہو صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔مکرم محموداحمد صاحب اٹھوال پنوں عاقل خلافت رابعہ کے شہداء کا تذکرہ ہو رہا ہے اور آج یہ اس کی دوسری قسط ہے۔سب سے پہلے محمود احمد صاحب اٹھوال شہید پنوں عاقل۔سندھ۔تاریخ شہادت ۲۹ جولائی ۱۹۸۵ء۔مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ جن کے شوہر محمود احمد اٹھوال صاحب شہید کئے گئے ہھتی ہیں کہ محمود صاحب کو شہادت کا بہت ہی شوق تھا۔۱۹۷۴ء میں احمدیوں کی مخالفت زوروں پر تھی مگر آپ نے ہر موقع پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔یہ مخالفت کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئی اور آپ کے ماموں زاد بھائی مقبول احمد کو