شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 297

شہدائے احمدیت — Page 192

خطبات طاہر بابت شہدا 183 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء سے متعین ہوئے اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد آپ پنجاب آنا چاہتے تھے لیکن حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کے ارشاد پر سکھر میں ہی قیام کیا۔اڑتالیس سال تک مختلف دینی خدمات پر مامورر ہے۔شہادت کے وقت آپ سکھر اور شکار پور کے اضلاع کی جماعتوں کے امیر تھے۔آپ نہایت مخلص، ہمدرد، عبادت گزار اور فنافی اللہ احمدی تھے۔آپ کا اکثر وقت احمد یہ دارالذکر میں ہی گزرتا تھا۔واقعہ شہادت: یکم رمئی ۱۹۸۴ء کو آپ مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آرہے تھے کہ رستہ میں چھپے ہوئے چھ حملہ آوروں نے آپ پر برچھیوں اور خنجروں سے حملہ کر دیا۔ایک حملہ آور نے بائیں طرف سے آپ پر تین وار کئے جن میں سے ایک آپ کے پیٹ میں لگا اور انتڑیاں باہر نکل آئیں۔زخمی حالت میں آپ گھر کی طرف چلے تو دوسرے حملہ آور نے بلم نما ہتھیار سے پیٹھ پر آٹھ اور بائیں کنپٹی پر ایک وار کیا۔شور سن کر گھر کی مستورات باہر نکلیں تو ابھی آپ زندہ تھے۔آپ نے سختی سے ان کو واپس جانے کی ہدایت کی۔قاتلوں کے بھاگ جانے کے بعد آپ کے اہل خانہ آپ کو گھر لے آئے۔آپ کی بہو نے پانی پلایا لیکن پانی ابھی حلق سے نیچے نہیں اترا تھا کہ آپ زخموں کی تاب نہ لا کر اپنے حقیقی مولا سے جاملے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔قریشی صاحب شہید کے قتل کا مقدمہ تو درج ہوا مگر پولیس نے کسی قاتل کو گرفتار نہیں کیا۔شہید مرحوم کے پسماندگان میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔آپ کے دو بڑے بیٹے قریشی ناصر احمد صاحب ایم۔اے پروفیسر گورنمنٹ کالج سکھر اور قریشی مبارک احمد صاحب مربی سلسلہ وفات پاچکے ہیں۔جب کہ باقی بیٹوں میں سے قریشی منور احمد صاحب M۔Sc ایگریکلچر آفیسر حیدر آباد میں رہائش پذیر ہیں۔قریشی رفیع احمد صاحب سابق اسیر راہ مولی سکھر میں ملازم ہیں اور ان کے اہل خانہ ربوہ میں مقیم ہیں۔قریشی نعیم احمد صاحب سکھر میں رہتے ہیں اور کھاد کی فیکٹری میں ملازم ہیں۔قریشی حنیف احمد صاحب اپنے خاندان کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔آپ کی دونوں بیٹیاں نصرت بیگم صاحبہ اور فضیلت بیگم صاحبہ شادی شدہ ہیں اور کراچی میں آباد ہیں۔سارا خاندان اللہ کے فضلوں کا گواہ بنا ہوا ہے۔