شہدائے احمدیت — Page 185
خطبات طاہر بابت شہدا 178 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء عبدالسمیع صاحب ابڑو اور دو بچیاں مکرمہ تہمینہ پروین صاحبہ اور مکر مہ امتہ الاعلی نصرت پری صاحبہ والدہ کے ساتھ ربوہ میں مقیم ہیں۔جب کہ تیسری بیٹی مکرمہ نعیمہ پروین صاحبہ شادی شدہ اور ان کے شوہر سیف اللہ شاہ صاحب ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ڈاکٹر مظفر احمد صاحب شہید امریکہ - ڈاکٹر مظفر احمد صاحب شہید۔ڈیٹرائٹ (امریکہ)۔یوم شہادت ۸ /اگست ۱۹۸۳ء۔امریکہ کی سرزمین پر اپنے خون سے شجر احمدیت کی آبیاری کرنے والے پہلے شہید ڈاکٹر مظفر احمد صاحب ۱۹۴۶ء میں ماہل پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔اس طرح شہادت کے وقت ان کی عمر ۳۷ سال تھی۔آپ کے والد محترم کا نام رشید احمد تھا۔آپ نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے F۔Sc کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ۱۹۷۱ء میں M۔B۔B۔S کیا اور پھر آرمی میڈیکل کور میں شامل ہو گئے۔۱۹۷۵ء میں امریکہ چلے گئے اور بہت سے ہسپتالوں میں کام کرنے کے بعد بالآخر ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں کام شروع کر دیا۔آپ نے صرف ایک اچھے ڈاکٹر تھے بلکہ ایک کامیاب داعی الی اللہ بھی تھے۔شہادت کے وقت بھی آپ امریکہ کے نیشنل جنرل سیکرٹری اور علاقائی قائد کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔عیسائیت کے موضوع پر آپ خاص دسترس رکھتے تھے۔چنانچہ آپ اپنے سٹاف کے عیسائی ممبران کے ساتھ عیسائیت کے موضوع پر بحث مباحثے کرتے رہتے۔۱۹۸۳ ء کے جلسہ سالانہ امریکہ میں شمولیت کی تیاری کر رہے تھے کہ ۸ اور ۹ راگست کی درمیانی رات ایک سیاہ فام آپ کو ملنے گھر آیا۔آپ اسے تبلیغ کرتے رہے۔بعد ازاں جب آپ اس کو الوداع کہہ کر دروازے کی طرف مڑے تو اس نے پیچھے سے فائر کر دیا۔ایک گولی گردن کے پیچھے گی، دو گولیاں آپ کے چہرے اور بازوؤں میں سے گزر گئیں اور آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔بعد ازاں اسی قاتل نے جماعتی مرکز کو بھی بم سے اڑانے کی کوشش کی لیکن خود بھی ساتھ ہی جل مرا اور اس طرح کیفر کردار کو پہنچا۔۱۵ را گست ۱۹۸۳ء کو شہید کی میت دو بجے شب کراچی پہنچی اور ۱۶ اگست کو آپ کی میت پہلے لاہور، چونڈہ اور پھر اسی روز ربوہ لائی گئی۔ربوہ میں شہید کا جنازہ میں نے پڑھایا اور شام چھ بجے آپ کو سپرد خاک کر دیا گیا۔اس کی شہادت پر میں نے ۱۲ / اگست ۱۹۸۳ء کو مسجد اقصیٰ میں خطبہ جمعہ