شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 297

شہدائے احمدیت — Page 184

خطبات طاہر بابت شہدا 177 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء کر باقی افراد خانہ بھی بیدار ہو گئے۔آپ کے ایک بیٹے مکرم ریاض احمد صاحب ناصر مربی سلسلہ نے جوان دنوں جامعہ احمدیہ میں پڑھتے تھے اور چھٹیوں پر گھر آئے ہوئے تھے ،حملہ آوروں میں سے ایک کو پکڑنے کی کوشش کی مگر ان کو بھی زخمی کر دیا گیا اور وہ بے ہوش ہو کر پڑے۔آپ کی اہلیہ محترمہ کے سر پر بھی کلہاڑی کے کاری زخم لگائے گئے اور آپ کی بچی بھی زخمی ہوئی۔آپ نے زخمی ہونے کی حالت میں بھی لوگوں سے یہی کہا کہ جس مسلک کو میں نے اپنایا ہے خدا کی قسم وہ جھوٹا نہیں ہے، نہ ہی میں نے کوئی بزدلی دکھائی ہے اور نہ ہی میرے قدم اس رستے میں ڈگمگائے ہیں۔ہاں میرے مقدر میں اے مخالفو! شہادت ہے اور تمہارے مقدر میں نحوست اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔پھر آپ نے بآواز بلند سندھی میں یہ نعرہ لگایا احمدیت کچی آہے، احمدیت کچی آہے، احمدیت کچی آہے۔آپ نے حالت نزع میں واقف زندگی بیٹے ریاض احمد ناصر کو نصیحت فرمائی کہ ”میں تو اب بچ نہیں سکوں گا۔مگر یاد رکھو احمدیت بالکل سچی اور برحق ہے اور تم اپنا وقف ہرگز نہ تو ڑ نا حملہ کے قریباً ایک گھنٹہ بعد آپ مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ کی نماز جنازہ کھنڈو میں ہوئی۔آپ کے گھر کے پاک نمونہ اور آپ کی بلا امتیاز خدمت خلق کے غیر احمدی بھی معترف تھے۔یہی وجہ تھی کہ بارہ ہزار لوگ آپ کے جنازے میں شریک تھے جن میں ماحول کے دیہات کے لوگ بھی بکثرت شامل تھے۔بہت سے غیر احمدی افراد بھی دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔پہلے آپ کو کھنڈو میں امانتاً دفن کیا گیا اور پھر ۲۶ دسمبر ۱۹۸۳ء کومیت ربوہ لائی گئی جہاں بہشتی مقبرہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق آپ کے جسم پر کلہاڑیوں کے ستائیس زخم تھے جن سے بعض دو سے تین انچ تک گہرے تھے۔جب صبح کو ہائی سکول کے لڑکوں کو اپنے مہربان اور شفیق استاد کے وحشیانہ قتل کی خبر ملی تو انہوں نے جلوس نکالا اور حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری اور ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔قاتل ۱۶ار اور ے اور اپریل کو گرفتار کر لئے گئے۔پسماندگان میں شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور چار بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔بڑے بیٹے مکرم ریاض احمد صاحب ناصر مربی سلسلہ ہیں اور شادی شدہ ہیں۔دوسرے بیٹے امتیا ز احمد صاحب ابڑو آسٹریلیا میں ہیں اور شادی شدہ ہیں۔باقی دو بیٹے مکرم افتخار احمد صاحب ابڑو اور مکرم