شہدائے احمدیت — Page 177
خطبات طاہر بابت شہداء 170 خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۹۹ء ہمارا یہاں رہنا مناسب نہیں۔سانگلہ ہل چھوڑ کر ہمیں ربوہ چلے جانا چاہئے۔مبادا اس لڑکے سے ہمیں کوئی نقصان پہنچ جائے۔حافظ صاحب نے کہا صدقہ وغیرہ دو کوئی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔وہ تو آپ کا بیٹا ہے ایسا نہیں کرے گا۔لیکن خدا کی بات بہر حال پوری ہونی تھی۔علی الصبح مکرم امیر صاحب سانگہ ہل اور قاری صاحب ایک دو اور دوست لے کر فیصل آباد ایک احمدی دوست کی تعزیت کرنے چلے گئے۔وہ لڑ کا عبداللہ جو ایک سال قبل شیخو پورہ چلا گیا تھا گھر میں داخل ہوا۔گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے پہلے ایک بچی جو پرائمری جماعت میں پڑھتی تھی ، حملہ کیا۔لیکن جب وار خالی گیا تو پھر بچوں پر جھپٹنا۔آپ بچوں کو بچانے کے لئے آگے بڑھیں تو انہیں بچاتی بچاتی خود اس کی گرفت میں آگئیں۔وہ ظالم چھاتی پر بیٹھ گیا اور چاقو کے وار کرتا رہا۔آپ بے بسی کی حالت میں اسے روکتی رہیں اور کہتی رہیں کہ عبداللہ بتا تو دو کہ ہمیں کس وجہ سے مار رہے ہو۔کہنے لگا تم کا فر ہوگئی ہو اس لئے مارتا ہوں۔بہر حال جب اس نے سمجھا کہ اب فوت ہوگئی ہیں تو انہیں چھوڑ کر پھر دوسرے بچوں کی طرف لپکا مگر وہ ادھر ادھر بھاگ چکے تھے۔قریب ہی سول ہسپتال تھا۔مرحومہ کو اور زخمی بچی کولوگوں نے وہاں پہنچایا۔اس واقعہ کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد قاری صاحب بھی فیصل آباد سے واپس آگئے۔چنانچہ امیر صاحب جماعت سانگلہ ہل کے حکم پر زخمیوں کو فوری طور پر فیصل آبادسول ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔وہاں ڈاکٹر ولی محمد صاحب نے بڑے ہی اخلاص، محبت اور توجہ سے آپریشن کیا۔فجزاه الله احسن الجزاء۔ڈاکٹر صاحب تین گھنٹوں کے بعد آپریشن روم سے باہر آئے اور آتے ہی رو پڑے اور کہا انا لله وانا اليه راجعون۔رشیدہ بیگم فوت ہوگئی ہیں۔بچی کی امید ہے کہ انشاء اللہ بچ جائے گی۔مرحومہ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ایک بیٹے مکرم حافظ عارف اللہ صاحب نے ایم۔اے عربی کیا ہے اور ربوہ میں ہی کا روبار کر رہے ہیں۔باقی دونوں بیٹے کینیڈا میں مقیم ہیں۔تینوں بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے۔مکرم ملک محمد انور ابن ملک محمد شفیع صاحب تاریخ شہادت ۲۲ / اگست ۱۹۷۸ء۔مگر اب تو وقت ہو گیا ہے۔یہ میرا خیال ہے اگر آگے جو میرے زمانے کے شہداء ہیں ان کا ذکر چلنا ہے اس سے پہلے اس کو لے لیں گے۔