شہدائے احمدیت — Page 154
خطبات طاہر بابت شہداء 146 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء اسی محکمہ سے منسلک رہے۔ان کے چھوٹے بھائی منیر احمد صاحب دسمبر ۱۹۵۶ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔بوقت شہادت عمر میں سال تھی۔ابھی غیر شادی شدہ تھے اور پنکھوں کے کارخانہ میں کام کرتے تھے۔واقعہ شہادت: یکم جون بروز ہفتہ ڈیوٹی سے گھر آئے تو اپنی والدہ سے کہنے لگئے اماں جلوس آ رہا ہے۔والدہ نے کہا اچھا بیٹا بتاؤ کیا پسند ہے، میں وہی پکاتی ہوں۔والدہ نے حسب منشاء چاول پکائے مگر انہوں نے جی بھر کر نہ کھائے۔اس کے بعد آپ والدین کو اپنے دوست سلیم کے گھر چھوڑ آئے اور ان کی حفاظت کی تاکید کی۔دونوں بھائی بشیر احمد اور منیر احمد رات بھر مکان کی چھت پر پہرہ دیتے ہوئے جاگتے رہے۔جلوس کا جس طرف سے آنا متوقع تھا اس طرف ناکہ بندی کا انتظام تھا مگر جلوس اس قدر کثیر تعداد میں تھا کہ نہ رک سکا اور آگے بڑھتا آیا یہاں تک کہ ان کے مکان کے پاس آگیا۔چنانچہ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے بھا گنا نہیں ، حضور کا حکم ہے کہ اپنا گھر چھوڑ کر بھا گنا نہیں۔خواہ ہم مارے جائیں۔چنانچہ جلوس نے ہلہ بول دیا اور آپ دونوں حقیقی بھائیوں بشیر احمد اور منیر احمد کو موقع پر ہی نہایت اذیت سے شہید کر دیا گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مکرم محمد رمضان صاحب اور مکرم محمد اقبال صاحب گوجرانوالہ محمد رمضان صاحب ومحمد اقبال صاحب ابناء محترم علی محمد صاحب۔یوم شہادت ۲ / جون ۱۹۷۴ء۔دونوں ویر و وال تحصیل ترن تارہ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے جو کہ قادیان کے قریب ایک گاؤں ہے۔قادیان سے اتنا قریب تو نہیں جتنا لکھا ہے لیکن بہر حال لکھا ہوا یہی ہے کہ قادیان کے قریب ایک گاؤں ہے۔۱۹۴۷ء میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو آپ کے والدین نے وہاں سے نقل مکانی کر کے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی۔کچھ عرصہ فیصل آباد میں رہنے کے بعد آپ کو ہلووال، ضلع گوجرانوالہ میں منتقل ہو گئے اور ۲ جون ۱۹۷۴ء کو مخالفین احمدیت دونوں بھائیوں محمد رمضان صاحب اور محمد اقبال صاحب کو دھوکہ دہی سے گھر سے بلا کر لے گئے اور گاؤں کے قریب ایک نہر کے کنارے لے جا کر دونوں کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔نعشیں نہر میں پھینک دیں۔محمد رمضان شہید کی نعش تو برآمد ہو گئی مگر محمد اقبال شہید کی نعش کوشش کے باوجود دستیاب نہ ہوسکی۔انالله وانا اليه راجعون۔