شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 297

شہدائے احمدیت — Page 148

خطبات طاہر بابت شہداء 140 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء سلسلہ تھے۔۲۶ مئی ۱۹۷۴ء کو اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک طالب علم نے آپ پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں آپ شدید زخمی ہو گئے۔آپ کو فوراً ہسپتال پہنچایا گیا مگر جب نواب شاہ ہسپتال کے ڈاکٹر عاجز آگئے تو آپ کو حیدر آباد ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن وہاں بھی علاج کارگر نہ ہو سکا اور آپ نے ۲۹ رمئی ۱۹۷۴ء کو اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔انالله واناالیه راجعون۔۳۰ رمئی ۱۹۷۴ء کو جنازہ پڑھایا گیا جس میں احمدیوں کے علاوہ غیر از جماعت نے بھی بھاری تعداد میں شرکت کی۔شہید مرحوم کو ان کی اپنی زمین میں سپرد خاک کیا گیا۔آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔آپ کا قاتل رفیق میمن کسی جرم میں سات سال تک جیل میں رہا۔وہاں سے رہا ہونے کے بعد اس کا ایکسیڈنٹ ہوا جس میں اس کے اوپر سے ٹرک گذر گیا اور اس کی لاش رات بھر کہتے نوچتے رہے۔قاتل کا خاندان مشہور کاروباری خاندان تھا۔اس کا کاروبار اور خاندان بھی تباہی و بربادی سے دو چار ہوا۔مکرم محمد افضل کھوکھر صاحب اور مکرم محمد اشرف کھوکھر صاحب گوجرانوالہ مکرم محمد افضل کھوکھر صاحب اور محمد اشرف کھوکھر صاحب گوجرانوالہ۔تاریخ شہادت یکم جون ۱۹۷۴ء مکرم محمد افضل کھوکھر شہید کی اہلیہ سعیدہ افضل بیان کرتی ہیں کہ شہادت سے چند روز پہلے افضل شہید عشاء کی نماز پڑھ کر گھر واپس آئے تو میں بستر میں بیٹھی رو رہی تھی۔دیکھ کر کہنے لگے سعیدہ کیوں رورہی ہو۔میں کہا یہ کتاب "روشن ستارے ، پڑھ رہی تھی اور میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی حضرت رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتی اور میرا نام کسی نہ کسی رنگ میں ایسے روشن ستاروں شامل ہو جاتا۔اس پر افضل کہنے لگے یہ آخــریـن کا زمانہ ہے، اللہ کے حضور قربانیاں پیش کرو تو تم بھی اولین سے مل سکتی ہو اور پہلوں میں شمار ہو سکتی ہو۔مجھے کیا خبر تھی کہ کتنی جلدی اللہ تعالیٰ میری آرزو کو پورا کرے گا اور کتنی دردناک قربانیوں میں سے مجھے گزرنا پڑے گا۔۳۱ رمئی کی رات احمدیوں کے خلاف فسادات کا جوش تھا۔ساری رات جاگ کر دعائیں کرتے گزرگئی۔ہم جیسے بھی بن پڑا اپنا دفاع کرتے رہے۔مجھے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ میرے شوہر اور بیٹے کے ساتھ یہ میری آخری رات ہے۔یکم جون کو جلوس نے حملہ کر دیا۔عورتوں کو افضل شہید نے