شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 297

شہدائے احمدیت — Page 145

خطبات طاہر بابت شہداء 137 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء سال کا تھا، دادا کی وفات پر گاؤں آرہا تھا۔جونہی وہ گاؤں پہنچا۔اس نے دیکھا کہ ایک شخص منہ پر ڈھاٹا باندھے گاؤں کے باہر جہاں ویگن رکھتی ہے، ایک جگہ چھپ کر بیٹھا ہوا تھا۔عبدالحمید نے اس کو دیکھ لیا اور پیچھے سے جاکر پکڑ لیا۔دیکھا تو وہ اس کا چچا تھا۔اس نے کہا چچا آپ۔چا گھبرا کر بولا کہ ہاں میں تمہاری حفاظت کے لئے بیٹھا ہوں کیونکہ لوگ تمہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔اس نے جب یہ واقعہ اپنی امی کوسنایا تو وہ اور بھی پریشان ہو گئیں اور انہیں اور دوسرے بچوں کو ماموں کے آنے پر وہاں سے نکلوا دیا۔دوسرے روز اار فروری ۱۹۶۶ء کو رستم خان شہید صبح کی نماز کے لئے وضو کر نے کھیتوں کی طرف جارہے تھے کہ فائر کی آواز آئی۔ان کی بیگم یہ آواز سن کر باہر کی طرف بھا گئیں۔پیچھے سے رستم شہید کے بھائیوں نے پکڑ لیا لیکن وہ چونکہ پہلے سے چوکنا تھیں اس لئے ان کو دھکا دے کر باہر نکل گئیں۔باہر جا کر دیکھا تو دشمن اپنا کام کر چکے تھے اور ان کے خاوند راہ مولیٰ میں شہید ہو چکے تھے۔اب وہ بچوں کو ڈھونڈنے لگے لیکن بچے تو وہاں سے پہلے ہی نکل چکے تھے۔ان کی بیگم کو اللہ تعالیٰ نے صبر کی قوت دی۔گاؤں کے مولوی نے آکر کہا کہ کس پر رپورٹ درج کرو گی۔انہوں نے کہا یہ معاملہ خدا کے سپرد ہے۔تم سب لوگ راستے سے ہٹ جاؤ۔میں اپنے خاوند کی لاش کو پشاور لے کر جاؤں گی اور وہاں ہماری جماعت کے لوگ دفن کریں گے۔ایک بیوہ عورت کی دلجوئی کی بجائے تمام گاؤں والے ان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ اس کو یہیں دفنا دو اور بچوں کو ہمارے سپر دکر دو تا کہ ہم انہیں پھر مسلمان بنالیں۔اس وقت ان کی بیگم نے نعش کے سامنے ایک تقریر کی کہ آج تو میں اپنے خاوند کی لاش کو یہاں سے لے جا کر رہوں گی۔یا درکھنا کہ جس سچائی کو رستم خان نے پایا تھا، میں اور میری اولا داس سے مڑنے والے نہیں۔انشاء اللہ رستم خان کی نسل پھیلے گی۔“ تمام لوگوں نے کہا کہ یہ عورت پاگل ہوگی ہے۔بجائے بین کرنے کے بڑی بڑی باتیں کرتی ہے۔اگلے دن ان کی بیگم شہید کی لاش لے کر پشاور آئیں اور وہاں تدفین ہوئی۔دشمنوں کا انجام: ایک سال کے اندر اندر ان کے ایک بھائی جس نے ان کے بیٹے حمید کو بھی