شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 297

شہدائے احمدیت — Page 144

خطبات طاہر بابت شہداء 136 خطبہ جمعہ ۱۸ / جون ۱۹۹۹ء بھجوائے ہیں غالبا وہ زیادہ مکمل ہیں اس لئے انہی کے بیان پر اکتفاء کرتے ہوئے اس شہادت کا تذکرہ کرتا ہوں۔نام رستم خان خٹک شہید۔پشاور کے قریب ایک گاؤں جلوزئی کے رہنے والے تھے۔خود احمدی ہوئے تھے اور اپنے گاؤں بلکہ آس پاس کے کئی گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔احمدی ہونے پر سارا گاؤں ان کا مخالف ہو گیا اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا ، جائیداد سے عاق کیا گیا۔ان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا کہ قادیانیت سے توبہ کر لو ان کے بچوں میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔چاوغیرہ چاہتے تھے کہ ان کی نسل کو ہی ختم کر دیا جائے۔بیٹیوں کو گاؤں لے جا کر بیچنے کی سازش کی گئی۔بیٹے کرنل عبدالحمید حال راولپنڈی کو بارہا جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔شہید اپنی سروس کے سلسلہ میں زیادہ تر باہر رہتے تھے۔گاؤں کی مسجد کے مولوی نے فتوی دیا کہ جو کوئی رستم خان کی نسل کو ختم کرے گا وہ جنتی ہو گا۔ان کی بیگم کو ایک دو دفعہ کسی مرگ پر گاؤں جانا ہوا تو کھانے پینے کے برتن الگ ہوتے تھے۔سب اچھوتوں والا سلوک کرتے تھے۔کھانے میں زہر ملانے کی بھی سازش کی گئی جو کے ناکام ہوئی۔جب ۹ فروری ۱۹۶۶ء کو شہید کے والد کی وفات ہوئی تو ان کی لاش لے کر بچے گاؤں گئے گاؤں پہنچتے ہی تمام گاؤں میں مولوی نے اعلان کیا کہ: لوگو! خوش ہو جاؤ ، آج رستم خان قادیانی آیا ہے۔اس کو قتل کر دو اور اس کی اولاد کو علاقہ غیر میں بیچ دویا پھر گاؤں میں بیاہ دو۔اس کا ایک بیٹا ہے اس کو مار ڈالو اور اب جو بھی ثواب کمانا چاہتا ہے، بہادر بنے اور سامنے آئے کیونکہ جنت کمانے کا ذریعہ سامنے آیا ہے۔“ رات کو رستم شہید کے والد کی تدفین سے پہلے جب یہ اعلان ہوا تو انہوں نے اپنی بیگم کو بلا کر کہا کہ تم کسی طرح سے اپنے بھائیوں عبدالسلام اور عبدالقدوس کو اطلاع کرو کہ وہ تعزیت کے بہانے گاؤں آئیں اور بچوں کو ساتھ لے جائیں کیونکہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور مجھے بیٹیوں کا خطرہ ہے۔دوسری طرف بیٹا عبدالحمید جو ان دنوں کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پڑھتا تھا اور اٹھارہ