شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 297

شہدائے احمدیت — Page 143

خطبات طاہر بابت شہداء 135 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء عہد خلافت ثالثہ کے شہداء (خطبه جمعه فرموده ۱۸ جون ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورہ بقرہ کی آیات کریمہ: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة :۱۵۴ - ۱۵۵) کی تلاوت کی اور پھر یوں ترجمہ بیان فرمایا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے مدد طلب کرتے رہو صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔مکرم رستم خان صاحب مردان آج کے خطبہ سے میں خلافت ثالثہ کے شہداء کا ذکر شروع کرتا ہوں۔سب سے پہلے اس ضمن میں رستم خان شہید مردان کا ذکر ہو گا۔یوم شہادت ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء۔مکرم رستم خان صاحب شہید کو خلافت ثالثہ کے دور میں پہلا شہید ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔اگر چہ ان کے حالات بہت حد تک جماعت کی تاریخ میں محفوظ ہیں لیکن ان کے بعض بچوں نے حال ہی میں جو واقعات لکھ کر