شہدائے احمدیت — Page 134
خطبات طاہر بابت شہداء 126 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء پونچھ کی مسجد کے لئے وقف کیا ہوا تھا۔بابو صاحب کی نگرانی ہی میں یہ مسجد زیر تعمیر تھی اور اسے جموں کے سات احمدی معمار تعمیر کر رہے تھے کہ ملک کی تقسیم ہوگئی۔پونچھ شہر میں مظفر آباد آزادکشمیر سے جو ہندو اور سکھ ہجرت کر کے آئے تھے انہوں نے اس وقت جب اس زیر تعمیر مسجد میں عصر کی نماز ہو رہی تھی اور محترم با بوعبدالکریم صاحب کے علاوہ جموں کے سات آٹھ احمدی معمار بھی شامل تھے مسجد پر حملہ کر کے ان سب کو شہید کر دیا اور پھر بابو عبد الکریم صاحب کے مکان پر حملہ کر کے ان کی والدہ صاحبہ اور پہلی بیوی کو بھی شہید کر دیا۔دوسری بیوی اپنی بچی سمیت حملہ آوروں سے بچ گئیں۔حکومت نے ان سب شہداء کو پونچھ جیل سے متصل قبرستان میں دفن کر دیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔خواجہ محمد عبد الله لون صاحب آسنور کشمیر خواجہ محمد عبد الله لون صاحب مولوی فاضل آف آسنور کشمیر۔آپ مولوی حبیب اللہ صاحب لون صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزند تھے۔قادیان سے ۱۹۳۶ء میں مولوی فاضل کیا اور کشمیر میں محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔تقسیم ملک کے وقت آپ اپنے گاؤں آسنور میں تھے، دو ماہ بعد اکتوبر میں جب سکول کھل گئے تو آپ ڈیوٹی پر جموں آگئے جو ان دنوں ہندو مسلم فسادات کی لپیٹ میں آیا ہوا تھا۔اس دوران حکومت نے اعلان کیا کہ جو مسلمان پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ کل ایک مقررہ جگہ پہنچ جائیں۔اس طرح حکومت دھوکہ کے ساتھ بکثرت مسلمانوں کے قتل عام کو تر و یج دے رہی تھی۔بظاہر تو یہ اعلان ان کے لئے نجات کا اعلان تھا مگر جال میں پھنسانے کا ایک طریقہ تھا۔جب یہ بسیں اکھنور کے قریب پہنچیں تو ہندوؤں اور سکھوں نے ان بسوں پر حملہ کر دیا اور ہزاروں مسلمان مرد اور عورتوں کو شہید کر دیا۔خواجہ محمد عبد اللہ صاحب بھی ان شہید ہونے والوں میں شامل تھے۔انالله وانا اليه راجعون۔مرحوم بہت شریف النفس اور عبادت گزار تھے۔بہت خوش الحان تھے۔قرآن کریم کی تلاوت بہت خوش الحانی اور سوز کے ساتھ کیا کرتے تھے۔آپ کی شادی خواجہ عبدالرحمن صاحب ڈار رئیس آف آسنور کی صاحبزادی مریم بیگم صاحبہ سے ہوئی جو ابھی آسنور میں زندہ ہیں۔آپ کی بیٹی عائشہ بیگم صاحبہ اسلام آباد میں رہتی ہیں اور دو بیٹے نعمت اللہ اور مطیع اللہ صاحب آسنور تحصیل کو لگام میں ہیں۔نعمت اللہ صاحب پچھلے سالوں میں جماعت احمد یہ آسنور کے پریذیڈنٹ بھی رہے ہیں۔