شہدائے احمدیت — Page 125
خطبات طاہر بابت شہداء 116 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء کامیابی کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر آپ نے کچھ دیر ایک گلاس فیکٹری میں کام سیکھا۔۱۹۴۵ء میں آپ کو حضرت مصلح موعودؓ نے سپین کے لئے نامزدفرمایا۔چنانچہ آپ ۱۲۴ جون ۱۹۴۶ء کو تبلیغ دین کے لئے پین پہنچے۔جہاں آپ نے انتہائی مشکل حالات میں خود اپنے خرچ پر سپین مشن کے کام کو جاری رکھا۔ایک پیسہ بھی مرکز سے وصول نہیں کیا۔مارچ ۱۹۸۸ء تک آپ سپین میں ہی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہے جس کے بعد آپ کا تقرر پرتگال ہو گیا جہاں آپ نے احمد یہ مشن کی بنیاد ڈالی۔۱۹۹۶ء کے آغاز میں آپ کی ریٹائر منٹ ہوئی چنانچہ آپ پرتگال سے واپس سپین میں آکر غرناطہ کے ایک قریبی گاؤں ڈرکال (Durcal) میں رہائش پذیر ہو گئے۔آپ چند سالوں سے سانس کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ساتھ ہی ذیا بیطس بھی تھی جس نے مزید پیچیدگی پیدا کر دی۔غرناطہ کے ہسپتال میں ۱۲ اگست ۱۹۹۶ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انــا لــلــه وانــا اليــه راجعون۔بو وقت وفات آپ کی عمرے ۷ سال تھی۔غرناطہ سے آپ کا جنازہ پید رو آباد لایا گیا اور پید رو آباد کے قبرستان میں جو مسجد بشارت سے اتنے فاصلہ پر ہے کہ اذان کی آواز وہاں سنائی دیتی ہے، آپ کی امانتاً تدفین ہوئی۔آپ کے پسماندگان میں آپ کی بیوہ مکرمہ رقیہ بشری صاحبہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے مکرم عطاء الہی منصور صاحب خاطبہ، سپین میں سرجن ہیں۔دوسرے بیٹے فضل الہی قمر صاحب آئبیریا ایئرلائن میں انجینئر ہیں اور میڈرڈ میں کام کرتے ہیں۔ایک بیٹا بے چارہ نفسیاتی مریض ہے۔اور یہ جو دو بڑے بیٹے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مخلص فدائی احمدی اور واقفین زندگی کی طرح خدمت سر انجام دیتے ہیں۔بیٹیوں میں سے مکرمہ رضیہ تسنیم صاحبہ یہاں لندن میں رہتی ہیں۔اور دوسری دو بیٹیاں طاہرہ شاہدہ صاحبہ اور امتہ الکریم مبارکہ صاحبہ والدہ کے ساتھ سپین میں مقیم ہیں۔استاد ابو بکر طور کے صاحب گیمبیا استاد ابوبکر طورے صاحب سیمبین معلم۔آپ ۱۹۸۱ء میں غانا کے جامعہ احمدیہ میں تعلیم کی غرض سے گئے اور تین سالہ کورس مکمل کرنے کے بعد گنی بساؤ میں ان کا تقرر ہوا۔گنی بساؤ میں یہ Farin کے علاقہ میں خدمات بجالاتے رہے۔پھر گیمبیا میں بھی کام کیا۔آپ ایک جماعتی کام کے