شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 297

شہدائے احمدیت — Page 104

خطبات طاہر بابت شہداء 95 95 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء گوجرانوالہ میں مقرر فرمائے گئے۔ابھی آپ کی تعیناتی کو تین ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں آپ کو مجاہد فورس ڈیوٹی پر طلب کیا گیا تو آپ مرکز کے حکم کے مطابق مجاہد فورس میں حاضر ہونے کے لئے ربوہ آگئے۔۷ دسمبر ۱۹۷۱ء کو دریائے چناب کے پل کی حفاظت کی ڈیوٹی سے واپس آتے ہوئے ریل کار کے حادثہ میں وفات پاگئے۔آپ کا جنازہ فوجی اعزاز کے ساتھ مسجد مبارک لایا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور موصی ہونے کے باعث آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔آپ خدام الاحمدیہ کے فعال کارکن تھے۔آپ کی زعامت کے دوران ہوٹل جامعہ احمدیہ کی زعامت ربوہ کی تمام مجالس میں اول آتی رہی۔بہت ہمدرد، مخلص اور خدمت گزار انسان تھے۔مکرم محمد شفیق قیصر صاحب محترم محمد شفیق صاحب قیصر۔ان کی شہادت حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوئی۔آپ محترم منشی محمد صادق صاحب کے فرزند تھے۔۱۲ اکتوبر ۱۹۳۹ء کو محمود آباد سندھ میں پیدا ہوئے۔پرائمری تک تعلیم قادیان میں پائی اور تقسیم ملک کے بعد ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ، سلانوالی ضلع سرگودھا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ، ربوہ میں تعلیم حاصل کر کے ۱۹۵۵ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔میٹرک کے فورا بعد ہی اللہ تعالی نے آپ کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔پہلے کچھ عرصہ دفتر خدمت درویشاں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔۱۹۵۷ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخلہ لے کر ۱۹۶۳ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ان کے علمی کام سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت متاثر تھے اور خود میرے سامنے بھی کئی بار ذکر کیا کہ یہ نوجوان خدا تعالیٰ کے فضل سے علمی کاموں میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔آپ نے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔دیگر جماعتی خدمات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی گرانقدر خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائی۔آپ ۱۹۵۹ء میں نائب مہتمم اشاعت اور نائب ایڈیٹر رسالہ خالد مقرر ہوئے۔اس کے بعد ۱۹۷۶ء تک آپ مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔۱۹۷۶ء میں آپ نا ئب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ نامزد ہوئے