شہدائے احمدیت — Page 103
خطبات طاہر بابت شہداء 94 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء پرائمری کی تعلیم کے بعد آپ مدرسہ احمدیہ قادیان میں دینی تعلیم کے لئے داخل ہوئے اور پنجاب یو نیورسٹی سے مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی اور پھر خدمت دین کے لئے اپنی زندگی پیش کر دی۔ایاز صاحب ۱۹۳۵ء میں تحریک جدید کے پہلے تبلیغی وفد میں سنگا پور بھیجے گئے تھے۔پندرہ سال متواتر فریضہ تبلیغ سرانجام دینے کے بعد ۱۹۵۰ء میں واپس آئے۔آپ کو اس عرصہ میں شدید ترین مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ایک دفعہ آپ کو شدید زخمی کر کے سڑک پر پھینک دیا گیا۔پھر بعض لوگوں نے بیہوشی کی حالت میں سڑک سے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا جہاں کافی عرصہ تک زخموں کا علاج ہونے کے بعد بالآخر تندرست ہو گئے۔بعض لوگ آپ کے قتل کا منصو بہ بنا کر آپ کے پاس پہنچے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کرشمہ دکھایا کہ وہی لوگ آپ کی باتیں سن کر آپ کی محبت کی تلوار سے گھائل ہو گئے اور جماعت میں شامل ہو کر سلسلہ کے مخلص خادم اور جاں نثار بن گئے۔اس زمانے میں جب آپ کے والد صاحب محترم کو آپ کے خط آتے تھے تو یہی لکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرح قربانی کے لئے پیدا کیا ہے۔“ ۸/اکتوبر ۱۹۵۶ء کو آپ کو دوبارہ سنگا پور اعلائے کلمتہ الحق کے لئے بھجوایا گیا۔کچھ عرصہ آپ سنگا پور میں مقیم رہنے کے بعد بور نیو میں متعین ہوئے۔آپ ذیا بیطس کے مریض تھے۔۱۶/اکتوبر ۱۹۵۹ء کو رات بخیریت سوئے صرف معمولی سی تھکاوٹ محسوس ہور ہی تھی لیکن آدھی رات کے بعد جب تہجد کے لئے بیدار ہوئے تو اٹھ کر کھڑے نہ ہو سکے اور زمین پر گر گئے۔آپ کی اہلیہ نے ساتھ کے کمرے سے آکر آپ کو دیکھا اور قریبی ہمسائے کو جو احمدی تھا آواز دی، اس نے آکر چار پائی پر ڈالا۔آپ کو ایمبولینس کے ذریعہ ہسپتال پہنچایا گیا جہاں چھتیں گھنٹے قومہ کی حالت میں رہنے کے بعد ۱۷، ۱۸ اکتوبر ۱۹۵۹ ء کی درمیانی شب آپ اپنے میدان جہاد ہی میں وفات پاگئے۔انالله وانا اليه راجعون مکرم مبارک احمد صاحب بھٹی ربوہ اب مکرم مبارک احمد صاحب بھٹی کا تذکرہ کرتا ہوں۔تاریخ شہادت سے دسمبر ۱۹۷۱ء۔مکرم مبارک احمد صاحب بھٹی چوہدری محمد علی صاحب کے بیٹے تھے۔۱۹۶۲ء میں کنری سے میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔۱۹۷۱ء میں شاہد پاس قرار پائے اور بطور مربی ضلع