شہدائے احمدیت — Page 98
خطبات طاہر بابت شہداء 89 99 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔حاجی جنو داللہ صاحب ان کا نام ہے۔وہ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں قادیان آئے اور تحقیق کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔پھر کچھ عرصہ بعد حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ اور ہمشیرہ بھی احمدی ہوگئیں اور اب تو وہ قادیان ہی آئے ہوئے ہیں۔تو عدالت خان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ احمدیت کو اس علاقے میں پھیلانے کا موجب بن گئی۔‘( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صفحہ:۷ ) مکرم مرزا منور احمد صاحب مبلغ امریکہ دوسرے مجاہد جن کا میں نے مختصر ذکر مرزا احمد شفیع صاحب شہید کے ذکر کے ساتھ کیا تھا ان کے متعلق کوائف یہ ہیں۔مرزا منور احمد صاحب مرحوم اگست ۱۹۴۶ء کے آخر میں امریکہ تشریف لے گئے تھے۔شکاگو میں کوئی ایک مہینہ قیام کے بعد آپ پٹس برگ کے حلقے میں متعین کئے گئے۔ابتداء میں یہ حلقہ امریکہ کے ساحل پر بالٹی مور سے لے کر ڈیٹن تک پھیلا ہوا تھا جس میں کلیولینڈ اور مینگس ٹاؤن بھی شامل تھے۔ان سب جماعتوں کے دلوں میں آپ نے اپنی خوش خلقی سادگی اور محبت کی بنا پر ایک خاص مقام پیدا کرلیا تھا۔دو سال کے مختصر عرصہ کے اندر آپ نے اپنی شب و روز والہا نہ جد وجہد سے پٹس برگس کے احمدیوں میں زبر دست حرکت پیدا کر دی اور یہ حلقہ امریکہ مشن میں ایک ممتاز حیثیت اختیار کر گیا حتی کہ شکاگو کی مقامی جماعت نے بھی آپ کو اپنے ہاں تقریر کی دعوت دی کہ ان میں وہ روح پیدا کریں جو انہوں نے پٹس برگ کی جماعت میں پیدا کر دی ہے۔مرزا منور احمد صاحب شہید نہایت وجیہ صورت، بلند قامت اور بظاہر اعلیٰ درجہ کے صحت مند نوجوان تھے مگر اندر اندر آپ ٹیومر کے عارضہ میں مبتلا ہو چکے تھے جس کا آپریشن ۱۴ ستمبر ۱۹۴۸ء کو ایک مقامی ہسپتال میں کیا گیا کیونکہ ٹیومر کا زہر انتڑیوں میں سرایت کر چکا تھا اس لئے آپریشن کے بعد کمزوری انتہاء کو پہنچ گئی اور دوسرے ہی دن دین مصطفی کے اس انتھک جانباز سپاہی کی روح قفس عصری سے پرواز کرگئی۔اناللہ وانا اليه راجعون۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ان کو بچپن سے ذاتی طور پر جانتے تھے۔آپ نے ان کے بارہ میں لکھا: ”عزیز مرزا منور احمد مرحوم کو میں بچپن سے جانتا تھا اس لئے بھی کہ وہ ہمارے قریبی عزیزوں میں سے تھے یعنی ہماری ممانی صاحبہ کے بھائی اور ہماری ایک بھا وجہ صاحبہ کے ماموں تھے