شہدائے احمدیت — Page 2
خطبات طاہر بابت شہداء 2 خطبہ جمعہ ۶ اراپریل ۱۹۹۹ء کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ اور ہرگز اس کو مردہ نہ کہو جو خدا کی راہ میں مارا جائے یا جو خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردے نہ کہو بَلْ أَحْيَا ولكِنْ لا تَشْعُرُونَ بلکہ وہ تو زندہ ہیں، حقیقت یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں ولکن لا تَشْعُرُونَ مگر تم کوئی شعور نہیں رکھتے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَئُ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ اور میں تمہاری ضرور آزمائش کروں گا کچھ خوف کے ساتھ والجُوعِ اور بھوک کے ساتھ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَراتِ اور مالوں اور جانوں کے ضیاع کے ساتھ۔وَالثَّمَراتِ اور اسی طرح پھلوں کے نقصان کے ساتھ وبَشِّرِ الصَّبِرِین اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دے۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ یعنی وہ لوگ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ کہتے ہیں اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔أُولَيْك عَلَيْهِمْ صَلَوت یہی وہ لوگ ہیں جن پر بہت ہی برکات ہیں اپنے رب کی طرف سے وَرَحْمَةٌ اور اس کی رحمت بھی و أوليكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔اس آیت کے تعلق میں میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک جامع اور مانع حدیث جو بخاری سے لی گئی ہے پڑھ کر سناتا ہوں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔( بخاری کتاب المظالم من قبل دون ماله حدیث نمبر ۲۳۰۰) ہے۔اس حدیث میں تمام شہادتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں جو حال ہی میں ہمارے شہید ہونے والے عزیزم غلام قادر کو سب نصیب ہوئیں کیونکہ ان کے اندر شہادت کی وجوہات میں سب اکٹھی ہو